مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کے روز عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے جامعہ الخلیل، جامعہ پولیٹکنیک اور القدس اوپن یونیورسٹی کے کیمپس اور ہاسٹلوں پر چھاپے مارے اور طلباء کو زدو کوب کیا۔
قلقیلیہ شہر میں عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام نے دسویں جماعت کے ایک طالب علم صہیب باسم صوان کی گرفتار کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مارا، صہیب کے گھرمیں ہونے کی وجہ سے اس کے اہل خانہ کو زدوکوب کیا۔ بعد ازاں اسے فوری طور پر سیکیورٹی مرکز پہنچنے کا نوٹس جاری کیا گیا۔ مشرقی قلقیلیہ میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے مالک بری، خذیفہ عساف اور دوسرے طلباء کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کی گرفتاری میں ناکامی کے بعد انہیں بھی سیکیورٹی مرکز میں طلب کیا گیا ہے۔
بیت لحم میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے سابق فلسطینی اسیر جعفر محمد عبیادت کو حراست میں لے لیا جبکہ اسی شہر کے ایک دوسرے سیاسی کارکن عرابی الجواریش کو سیکیورٹی مرکز میں طلب کیا گیا ہے، الجواریش ماضی میں متعدد مرتبہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں قید رہ چکا ہے۔
رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کی اسرائیل نواز پولیس نے القدس یونیورسٹی کے انفارمیشن کالج کے ہاسٹل پر چھاپہ مارا اور طالب علم مصعب سعید کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم وہ گرفتار نہیں ہوسکے۔ عباس ملیشیا نے اسرائیلی فوج کے طرز پر کم سن بچوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ رام اللہ میں عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے ایک 14 سالہ بچے کو گرفتار کرنے کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم اس کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔
