فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز نے چھاپوں اور تلاشیوں کی کارروائیوں میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے تین رہ نماؤں اور چار دیگر افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنے ایک ساتھی قیدی کی رہائی کے لیے مظاہرہ کررہے تھے۔ جبکہ دیگر چار کی گرفتاری بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقاتوں کے خلاف احتجاج کے بعد عمل میں لائی گئی۔نابلس شہر میں عباس ملیشیا نے ایک کارروائی کر کے 45 سالہ حماس رہ نما ایاد عاھد عصفور کو حراست میں لے لیا۔ عصفور کو کچھ ہی عرصہ قبل اسرائیلی جیل سے رہا کیا گیا تھا جبکہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں بھی قید کاٹ چکا ہے۔
الخلیل میں جنرل انٹیلی جنس فورسز نے سعیر کے مقام سے عزات شلالدہ ابو بلال کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا۔ رام اللہ میں اسی طرح کی ایک کارروائی میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم اسامہ الخطیب کو حراست میں لے لیا گیا۔
ادھر طولکرم میں سیاسی کارکن محمد الھمشری کی بھوک ہڑتال اب گیارھویں دن میں داخل ہوگئی ہے۔ فلسطینی سیاسی حلقوں نے رام اللہ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیل میں ڈالے گئے سیاسی رہ نما محمد الھمشری کو فوری طور پر رہا کرے۔
