اسرائیلی حکام نے جیلوں میں ڈالے گئے سات فلسطینیوں کو رہا کر دیا ہے۔ رہائی پانے والوں میں اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس ‘‘ کے رہ نما الشیخ صالح محمود عطیہ بھی شامل ہیں جن کا تعلق مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی حکام نے سات فلسطینی قیدیوں کو ان کی مدت اسیری مکمل ہونے کے بارے میں جمعرات کے روز آگاہ کیا، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ رہائی پانے والے سات میں سے چھ فلسطینی صحرائے نقب کی جیل کے وارڈ نمبر نو میں قید تھے۔ رہائی کے بعد انہیں فوجی بسوں میں مغرب کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کے جنوب میں الظاہریہ اور السموع کے علاقے میں اتارا، جہاں سے وہ اپنے اپنے گھروں میں پہنچے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق صہیونی جیل سے رہائی پانے والوں میں حماس کے رہ نما پچاس سالہ الشیخ صالح محمود عطیہ بھی شامل ہیں، جنہیں پچھلے30 ماہ سے مسلسل انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے مندوب فواد الخفش نے بتایا کہ شیخ صالح محمود الخفش ماضی میں بھی کئی بار صہیونی جیلوں میں حراست میں رہ چکے ہیں۔ انہوں نے تقریبا پندرہ سال اپنی زندگی کے صہیونی جیلوں کی نذر کیے ہیں۔
رہا ہونے والے دیگر فلسطینیوں میں 28 سالہ علاء انیس غفری بھی شامل ہیں جو پچھلے ڈیڑھ سال سے اسرائیلی جیلوں میں قید تھے۔
مرکز اطلاعات فلسطین نے دیگر رہائی پانے والے خوش نصیبوں کے بارے میں بھی معلومات جمع کی ہیں۔ ان میں الخلیل سے تعلق رکھنے والے پچیس سالہ عدی ھاشم عبدالفتاح الہیمونی، النجاح یونیورسٹی کے طالب علم امین القواسمی، علاء الدین طلال، خالد مجاہد اور دیگر شامل ہیں۔ خالد مجاہد اور علاء الدین صہیونی جیلوں میں پچھلے آٹھ سال سے قید تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
