اسرائیلی حکومت میں شامل وزیر برائے اقتصادی امور اور انتہا پسند مذہبی سیاسی جماعت "جیوش ہوم” کے سربراہ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کابینہ کاہنگامی اجلاس طلب کریں
جس میں مغربی کنارے کی تمام یہودی کالونیوں بالخصوص "گوش عتصیون”، "آرئیل”، "معالیہ ادومیم” اور "الفیے منشیہ” کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کیا جائے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے اقتصادی امور "نفتالی بینیٹ” نے وزیراعظم نیتن یاھو کو ایک مکتوب لکھا ہے جس میں ان سے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کا "یہودی تشخص” تسلیم کرنے سے کھل کر انکار کردیا ہے۔ اس کے بعد مزید بات چیت کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ اس لیے وزیراعظم فی الفور تمام یہودی کالونیوں کو اسرائٰیلی ریاست کا حصہ قرار دیں۔
صہیونی وزیرکا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کے دوران بھی فلسطینی اتھارٹی اسرائیلیوں کے قتل پر اکساتی رہی ہے تاکہ مزید فلسطینی قیدیوں کو چھوڑا جاسکے۔
مبصرین کے خیال میں صہیونی وزیر اور "جیوش ہوم” کے سربراہ کے اس نوعیت کے بیانات محض سیاسی فائدہ سمیٹنے کی خاطر جاری کیے جا رہے ہیں۔ وہ شدت پسند یہودی حلقوں میں خود کو زیادہ مقبول لیڈر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ نیتن یاھو بینیٹ کی اس تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
