اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیش آئند جمعرات اور جمعہ یعنی 24 اور 25 ستمبر کی تاریخوں میں یہودیوں کے مذہبی تہوار ’’عید العرش‘‘ کے موقع پر الخلیل میں مقدس مقام مسجد ابراہیمی میں صرف یہودی آباد کاروں کو داخلے اور عبادت کی اجازت حاصل ہوگی
اور ان دو دنوں کے دوران کوئی مسلمان اس مسجد میں داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ ہی مسجد میں اذان دی جا سکے گی۔
الخلیل شہر میں محکمہ اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے انہیں تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کے ایام میں مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے داخلے کے لیے بند رہے گی اور یہودی آباد کاروں کو مسجد میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
