اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ 13 جون کی شام کو مقبوضہ مغربی کنارے سے تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد سے اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کا ایک سرگرم رہ نما بھی لاپتا ہے۔
اسرائیلی فوج کو یہودی آباد کاروں کے قتل میں جن تین فلسطینیوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، ان میں سے ایک لاپتا حماس کا رکن بھی شامل ہے۔
اسرائیل کی عبرانی ویب پورٹل "وللا” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد قتل میں حماس کے تین ارکان مروان القواسمی، عامر ابو عیشہ اور حسام دوفش کو نامزد کیا ہے۔ تاہم حسام اغواء کی کارروائی کے اگلے روز سے غائب ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حسام کی پراسرار گم شدگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تین یہودی لڑکوں کے اغواء کے بعد قتل میں وہ بھی ملوث ہے۔ حسام دوفش کا پورا خاندان اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کا حامی ہے اور خود حسام بھی ماضی میں متعدد مرتبہ اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹ چکا ہے۔
اسرائیلی فوج اور پولیس کئی بار الخلیل میں حسام دوفش کے گھر پر چھاپے مار چکی ہے تاہم اسے گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس کے اہل خانہ کو اس کے گرفتاری کے وارنٹ بھی دکھائے ہیں اور کہا ہے کہ وہ تین یہودی لڑکوں کے قتل میں سیکیورٹی اداروں کو مطلوب ہے۔
