قابض اسرائیلی فوج نے نے جمعرات کے روز یہودی آبادکاروں کی گمشدگی کے بعد سے 250 سے زائد فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے جن میں اکثریت ممبران پارلیمان، حماس رہنمائوں اور سماجی رہنمائوں کی ہے۔
ان اسیران میں سے اکثر کو انتظامی حراست میں رکھا گیا تھاجس میں اسیران کو بغیر کسی مقدمے یا الزام حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے الخلیل میں 240 چھاپے اور سرچ آپریشن کئے ہیں۔
تحریک نے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے اس کے سینکڑوں کارکنوں اور رہنمائوں کے خلاف حراستی مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی خلاف ورزیاں اور پابندیوں سے تحریک کو اس کی راہ سے نہیں ہٹایا جاسکتا ہے۔
اس موقع پر فلسطینی اسیران سوسائٹی نے بتایا کہ منگل کے روز مغربی کنارے سے 55 فلسطینی اسیران کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں دو سابق اسیران بھی شامل ہیں۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی کے سربراہ قدورہ فارس نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے حراستی مہم بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی لئے اسیران تقریبا دو ماہ سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں تاکہ انہیں کسی عدالت میں انصاف کے تقاضوں کے مطابق پیش کیا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
