مقبوضہ فلسطین میں مسیحی برادری کےآرتھوڈوکس مذہبی فرقے کے پیشواء عطاء اللہ حنا نے ایک مرتبہ پھر فلسطینی نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج اور صہیونی ریاست کی سول سروسز میں ملازمت سے انکار کردیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی عرب[مسلمان] اور عیسائی ایک ہی سماج کے دو رخ ہیں۔ جس کے باعث دونوں قومیں یک جان دوقالب ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطاء اللہ حنا نے ان خیالات کا اظہار مسیحی نوجوانوں کے ایک وفد سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرکے مسیحی اور مسلمان برادری کے درمیان اتحاد کو ختم کرنا اور فلسطینیوں میں تفریق پیدا کرنے کی سازش کررہا ہے۔ اس لیے میں تمام فلسطینی نوجوانوں کو خبردار کرتاہوں کہ وہ صہیونی فوج اور سول سروسز سمیت اسرائیل کے کسی بھی سرکاری محکمے میں ملازمت قبول کرنے سے انکار کردیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم عیسائی ہوں یا مسلمان لیکن ہماری تاریخ اور ثقافت ایک ہے۔ ہم سب کی پہچان عرب ہے لیکن ہمیں تقسیم کرنے اور ہماری قوت کو منتشر کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ عطاء اللہ حنا کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے مسیحی اور مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کی مکروہ سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے مسلمانوں اور مسیحی مذہب کے پیروکار نوجوانوں کو صہیونی ریاست کی سازشوں پر بیدار رہنے کا مشورہ دیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطاء اللہ حنا نے ان خیالات کا اظہار مسیحی نوجوانوں کے ایک وفد سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطینی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کرکے مسیحی اور مسلمان برادری کے درمیان اتحاد کو ختم کرنا اور فلسطینیوں میں تفریق پیدا کرنے کی سازش کررہا ہے۔ اس لیے میں تمام فلسطینی نوجوانوں کو خبردار کرتاہوں کہ وہ صہیونی فوج اور سول سروسز سمیت اسرائیل کے کسی بھی سرکاری محکمے میں ملازمت قبول کرنے سے انکار کردیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم عیسائی ہوں یا مسلمان لیکن ہماری تاریخ اور ثقافت ایک ہے۔ ہم سب کی پہچان عرب ہے لیکن ہمیں تقسیم کرنے اور ہماری قوت کو منتشر کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ عطاء اللہ حنا کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے مسیحی اور مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کی مکروہ سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے مسلمانوں اور مسیحی مذہب کے پیروکار نوجوانوں کو صہیونی ریاست کی سازشوں پر بیدار رہنے کا مشورہ دیا۔
فلسطینی عیسائی پادری کا کہنا تھا کہ حال ہی میں اسرائیل کےسرکاری اور غیر سرکاری ذرائع ابلاغ میں یہ افواہیں پھیلائی گئی ہیں کہ حکومت نے فلسطینی عیسائی برادری کے بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں دی ہیں اور انہیں فوج میں بھی بھرتی کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق یہ تمام باتیں صریح جھوٹ ہیں لیکن ان کا اصل مقصد مسیحی شہریوں کو سرکاری ملازمتوں کے لالچ میں اپنی صفوں میں شامل کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی فلسطینی عرب شناخت کو بھلا دیں۔ ہم چند پیسوں کےلیے اپنی تاریخ اور عرب تشخص کا سودا نہیں کریں گے۔
شکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
