اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس کے رہائیشی مامون علی احمد فرحان کو یہودی فوجیوں پر سنگ باری کے الزام میں پانچ سال قید با مشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں قائم اسرائیل کی ایک عدالت نے بدھ کو مامون فرحان کیس کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے 08 مارچ2013ء کو مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں پر سنگ باری کی تھی اور شیشے کے ٹکڑے پھنک کر متعدد یہودی فوجیوں کو زخمی کیا تھا۔ اکیس سالہ مامون کو سنگ باری کے دوران ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق مامون کو حراست میں لیے جانے کے بعد کئی جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ اس وقت وہ صحرائی جیل نفحہ میں قید ہے،جہاں اس کا بڑا بھائی محمد بھی اسی الزام میں زیرحراست ہے۔ اسرائیلی عدالت کی جانب سے مامون کے بھائی کو بھی پیش آئند چند ایام میں سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔
