غاصب یہودی آباد کاروں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے شہرالخلیل میں ایک چھ سالہ معصوم فلسطینی بچے پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی اشرار نے چھ سالہ سجود محمود عوض کو اس وقت پکڑ کروحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ جنوبی الخلیل میں یطا کے مقام پر ایک سڑک کے کنارے پراپنے گھر کے قریب ہی کھڑا تھا۔ یہودی شرپسندوں نے الزام عاید کیا کہ بچے نے ان کی گاڑیوں پر سنگ باری کی ہے۔اس بھونڈے الزام کے بعد اسے مارمار کرلہو لہنا کردیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق بچے کے سرمیں گہرے زخم آئے ہیں۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے پر تشدد کرنے والے یہودی قریب ہی واقع ’’ماعون‘‘ نامی ایک یہودی کالونی سے آئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
