مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں یہودی شرپسندوں کے کئی جتھے مراکشی دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے جبکہ مسجد میں عبادت کے لیے آنے والی فلسطینی خواتین اور دیگر مسلمان شہریوں کو قبلہ اول کے باہر روک دیا گیا۔ کئی گھنٹے کے انتظار کے بعد مسلمانوں نے یہودی فوج اور پولیس کے اس غیرمنصفانہ طرز عمل پر سخت احتجاج کیا اور صہیونی ریاست کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے فلسطینی شہریوں کو مسجد اقصیٰ میں روکنے کا سلسلہ بڑھایا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ میں دھاوں کا سلسلہ بھی تیز ہو رہاہے۔ گذشتہ روز بیت المقدس کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سخت تشویش اور کشیدگی دیکھی گئی۔
اسرائیلی پولیس نے یہودی آباد کاروں کے داخلے کے لیے مختص مسجد اقصیٰ کے مراکشی گیٹ کے علاوہ دیگر تمام داخلی اور خارجی راستوں پر اپنے دستے تعینات کر رکھے ہیں، جو نہ صرف نمازیوں کو قبلہ اول میں نمازوں کے اوقات میں اندر جانے سے روکتے ہیں بلکہ مسجد اقصیٰ سے متصل دارالعلوم کے طلباء کو بھی آگے جانے سے منع کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی پولیس کے اس اقدام کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں میں سخت اشتعال اور غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
ادھر مسجد اقصیٰ کے سرپرست ادارے” اقصیٰ فائونڈیشن وٹرسٹ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں صہیونی حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مسلمان خواتین کے قبلہ اول میں داخلے پر پابندیاں برقرار رہیں تواس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی تمام ترذمہ داری صہیونی ریاست اور اس کے سیکیورٹی اداروں پر عائد ہو گی۔
اقصیٰ فائونڈیشن کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کو داخلے سے روک کر فلسطینی عوام میں اشتعال پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے۔ فلسطینی عوام کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔ اگر یہ پابندیاں برقرار رہیں تو فلسطینیوں میں موجود غم وغصہ آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔
