عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ اتوار کے روز یتھسار یہودی کالونی سے آئے درجنوں یہودی آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں کی سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں پر سنگ باری کی اور آہنی ڈنڈوں سے ان کے شیشے توڑ ڈالے تاہم پرتشدد کارروائیوں میں کسی فلسطینی شہری کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ صہیونی شدت پسند فلسطینیوں کی کاروں پر پٹرول بم بھی پھینک رہے تھے۔ انہوں نے گاڑیوں پرحملوں کے لیے آتش گیر مادہ بھی استعمال کیا۔ مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ جنوبی نابلس میں یہودیوں کے حملوں کے وقت صہیونی فوجی کچھ ہی فاصلے پر کھڑے تماشا دیکھتے رہے اور انہوں نے یہودی شرپسندوں کو پرتشدد کارروائیوں سے منع کرنا بھی گوارا نہیں سمجھا۔
ایک مقامی سماجی کارکن اور حوارہ بلدیہ کونسل کے چیئرمین ناصر الحواری نے بتایا کہ یہودی فوجیوں کی کم وبیش تیس جیپوں نے حوارہ قصبے کا محاصرہ کیا اور دیر تک فلسطینی شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی جاتی رہی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
