فلسطین میں دنیا بھرسے لا کرآباد کیے گئے یہودی مقامی فلسطینی آبادی کے لیے سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔ یہ شرپسند یہودی روز مرہ کی بنیاد پر مختلف ٹولیوں کی شکل میں اپنی کالونیوں سے نکلتے ہیں اور فلسطینیوں کو چڑانے کے لیے اُن کی آبادیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسی طرح کا ایک اشتعال انگیز گشت گذشتہ شام مقبوضہ بیت المقدس میں دیکھا گیا۔ شرپسند یہودی بیت المقدس کے قدیم علاقے شیخ جراح میں گھومتے رہے۔ یہودی گروپ میں "عطرات کوھنیم” اور یہودیوں کی بیت المقدس میں املاک کی محافظ تنظیم کے ارکان بھی شامل تھے۔ یہودیوں کا یہ ٹولہ شیخ جراح سے ہوتا ہوا کرم المفتی، وادی الجوز میں صہیونی وزارت داخلہ کے مقامی دفتر اور کبانیہ ام ہارون کے مقم پرریڈ کراس کے زیراہتمام اسپتال میں بھی گیا۔
الشیخ جراح کالونی کے مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں کا ایک گروپ گاڑیوں پرسوار تھا جب کہ ایک دوسرا ٹولہ پیدل ہی شہر میں گھومتا رہا ہے۔ ان یہودی آباد کاروں نے مخصوص نوعیت کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔
عینی شاہدین کےمطابق شیخ جراح میں یہودی اباد زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تاہم انہیں پولیس اور صہیونی فوج کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ یہودی آباد کاروں نے بیت المقدس میں گشت ایک ایسے وقت میں کیا جبکہ فلسطینی عوام پہلے ہی صہیونی شدت پسند سیاست دان آوی گیڈور لائبرمین کے دورے پر سخت مشعل تھے۔ لائبرمین نے سلوان اور وادی حلوہ میں یہودی آباد کاروں سے ملاقات کی تھی اور شہرمیں ہونے والی کھدائیوں کا بھی جائزہ لیا۔ ان کی آمد پرفلسطینی شہریوں نے ان کے خلاف احتجاجی جلوس بھی نکالے
