مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کو علی الصباح سیکڑوں یہودی انتہا پسند مسجد اقصیٰ کے تاریخی مراکشی دروازے کے باہرجمع ہوئے اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ مسجد کے اندر فلسطینی بھی موجود تھے۔ انہوں نے یہودیوں کو روکنے کی بھرپور کوشش کی مگر انتہا پسند یہودی طاقت کا استعمال کرتےہوئے اندر داخل ہوگئے۔ فلسطینی شہریوں نے احتجاج کیا تو قابض فوج نے ان پرگولیاں چلائی اور زہریلی آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجےمیں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ سے متصل مسجد القبلی میں ہفتے کی شام بڑی تعداد میں یہودی جمع ہوئے جنہوں نے فلسطینی نمازیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ رات بھر وہاں پر کشیدگی برقرار رہی۔ صبح کو یہودیوں کے مزید کئی جتھے پولیس اور فوج کی سخت سیکیورٹی میں وہاں پہنچ گئے۔
یہودی انتہا پسندوں اور قابض فوج کی جانب سے فلسطینیوں پرحملوں کے رد عمل میں فلسطینی شہریوں نے بھی سنگ باری کی جس کے نتیجے میں کم سے کم چار اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودی مسجد القبلی کی طرف سے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ فلسطینی نمازیوں نے انہیں روکا جس پر اسرائیلی پولیس نے ان پر شیلنگ شروع کردی۔ شیلنگ کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ کئی افراد زہریلی گیس کے گولے پھٹنے سے دم گٹھنے سے متاثر ہوئے۔
قابض فوج نے کارروائی کرتے ہوئے مسجدا قصیٰ کے اندر سے پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔
ہفتے کے روز اسرائیلی پولیس کی جانب سے ایک سرکلرجاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اتوار کے روز فلسطینی مردوں اور خواتین کو قبلہ اول میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ بعد ازاں پابندی کو 50 سال یا اس سے زیادہ کے عمر کے مردوں اور عورتوں کے لیے ختم کردیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
