(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں یہودی آباد کاری میں سرگرم ایک تنظیم نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے قریب فلسطینی شہریوں کی اراضی اور مکانات قبضے میں لینے کی ایک سازش شروع کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’’عطیرت کوھنیم‘‘ نامی ایک یہودی توسیع پسند گروپ نے سلوان قصبے کی بطن الھویٰ کالونی میں ایکا الرجبی نامی فلسطینی خاندان کو عدالتی نوٹس بھجوائے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں[الرجبی خاندان] نے جس جگہ دو رہائشی پلازے تعمیر کیے ہیں وہ جگہ اس تنظیم کی ملکیت ہے۔وادی حلوہ۔ سلوان انفارمیشن سینٹر نے بتایا کہ ’’عطیرت کوھنیم‘‘ نے دو روز پیشتر رات کے وقت مرحوم فلسطینی عوض عبدالفتاح الرجبی اور ان کے مرحوم والد عبدالفتاح الرجبی کے خاندانوں کوعدالتی نوٹس بھجوائے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چھ رہائشی فلیٹس پر مشتمل دومکان تنظیم کے ملکیتی رقبے پربنائے گئے ہیں۔ لہٰذا وہ تیس یوم کے اندر اندر عدالتی نوٹس کا جواب داخل کریں۔
یہودی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی سنہ 1948 ء سے پہلے یمن سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی تھی۔
یہودی تنظیم کے دعوے کے مطابق بطن الھویٰ میں الرجبی خاندانوں کی ملکیت 5 دونم اور 200 مربع میٹر جگہ یہودیوں کی ملکیت رہی ہے اور سنہ 1881 ء کے بعد یہ جگہ یمن کے یہودیوں کے پاس تھی جسےعطیرت کوھنیم نے خرید کرلیا تھا۔
یہاں یہ امر واضح رہے کہ اسرائیلی تنظیم بطن الھویٰ کی جس جگہ کا دعویٰ کررہی ہے وہاں مجموعی طورپر 30 سے 35 رہائشی مکانات ہیں جن میں 80 کے قریب خاندان رہائش پذیر ہیں جن کے کل افراد کی تعداد 436 بتائی جاتی ہے۔
