مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "العاد” کی جانب سے مسجدا قصیٰ کے جنوب میں الخیاط نامی ایک فلسطینی خاندان کا مکان قبضے میں لے کراس پر یہودیوں کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا۔ یہودیوں کی اس غاصبانہ کارروائی کےخلاف متاثرہ خاندان نے صہیونی مجسٹریٹ عدالت میں اپیل کر دی تھی۔
عدالت کی جانب سے کئی روز قبل فیصلہ سنا دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ "العاد” الخیاط فیملی کے مکان پریہودیوں کی ملکیت کا دعویٰ ثابت نہیں کر سکی لہٰذا تنظیم کی جانب سے اس مکان میں بسائے گئے یہودیوں کو آج اتوار 23 نومبر تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ الخیاط منزل پر کسی یہودی کا حق ملکیت ثابت نہیں ہو سکا ہے لہٰٗذا اسے خالی کر کے اس کے مالکان کو لوٹا دیا جائے۔
عینی شاہدین کے مطابق کل ہفتے کی شام "العاد” کے غنڈہ گردوں کی بڑی تعداد نے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ یہودی گروپ نے اس مکان پر ستمبر کے آخر میں یہ کہہ کر قبضہ کیا تھا کہ اس نے یہ مکان اس کے مالکان سے خرید کیا ہے، تاہم فلسطینی شہریوں اور مالک مکان نے مغربی بیت المقدس کی ایک عدالت میں صہیونی تنظیم کے دعوے کے خلاف اپیل دائر کر دی تھی۔
الخیاط فیملی کی خاتون وکیل سناء الدویک نے "مرکز اطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ مجسٹریٹ عدالت کی جانب سے یہودی تنظیم کو باربار بلایا اور اس کا موقف سننے کے ساتھ مکان کے مالکانہ حقوق اور خریداری کی دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا لیکن تنظیم اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکی جس پر گذشتہ جمعرات کو عدالت نے حکم دیا تھا کہ مکان کو تئیس نومبر بروز اتوار تک خالی کر دیا جائے۔
سناء نے بتایا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود صہیونی تنظیم مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور مکان کو خالی نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ متاثرہ فلسطینی خاندان کا مکان خالی کرانے کے لیے انتظامیہ کو ہدایات جاری کرے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی کسی عدالت کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں فیصلے کا صدور عموما انہونی بات ہے۔ صہیونی عدلیہ کے ان معدودے چند فیصلوں میں سے ایک یہ فیصلہ بھی ہے جس میں فلسطینی شہری کو اس کا مکان واپس کرنے کو کہا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
