مرکزاطلاعا ت فلسطین کے مطابق یہودی انتہا پسند گروپوں کے اتحاد "تنظیمات ہیکل سلیمانی” کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم کو ایک مکتوب ارسال کیا گیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کو تمام مسلمانوں کے لیے بند کردیں۔ خاص طورپر آئندہ ماہ اگست کی نو تاریخ کو کسی فلسطینی اورمسلمان کو "جبل ہیکل” میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ یہ دن یہودی تنظیموں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
نیتن یاھو کو بھیجے گئے مکتوب میں یہودی انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ وہ اگست کے مہینے بالخصوص اس کے پہلے دس ایام میں فلسطینیوں کا مسجد اقصیٰ میں داخلہ نہیں چاہتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے تمام دروازےفلسطینیوں کے لیے بند اور یہودیوں کے لیے کھول دیے جائیں اور یہودیوں کو ہرقسم کی سیکیورٹی مہیا کی جائے۔
مکتوب میں کہا گیاہے کہ یہودی نو اگست کو آزادی کے ساتھ جبل ہیکل میں عبادت کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کو اس دن قبلہ اول میں داخلہ بند کردے اور مسجد کے اندر موجود تمام مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا جائے۔
خیال رہے کہ یہودی انتہا پسند مسجدا قصیٰ کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیرکے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے نو اگست کو "ہیکل سلیمانی” کا دن قرار دے رکھا ہے۔ اس روز اسرائیل بھر سے یہودیوں کے علاوہ بیرون ملک سے بھی بڑی تعداد میں یہودیوں کو خاص طور پر مسجد اقصیٰ میں لایا جاتا ہے جہاں انہیں ہیکل سلیمانی کے حوالے سے رہ نمائی فراہم کی جاتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
