فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع کے خلاف عالمی سطح پر اسرائیل کےخلاف احتجاج میں شدت آتی جا رہی ہے۔ فرانس اور برطانیہ کے بعد مصر نے بھی اپنے ہاں تعینات اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کے لیے تین ہزار مکانات کی تعمیر کے اعلان پر احتجاج کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مصری وزارت خارجہ کے ترجمان عمرو رشدی نے منگل کے روز قاہرہ میں تعینات صہیونی سفیر کو دفترخارجہ میں طلب کر کے تین ہزار نئے مکانات کی تعمیر کے اعلان پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دفتر
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مصری وزارت خارجہ کے ترجمان عمرو رشدی نے منگل کے روز قاہرہ میں تعینات صہیونی سفیر کو دفترخارجہ میں طلب کر کے تین ہزار نئے مکانات کی تعمیر کے اعلان پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دفتر
خارجہ طلبی کے بعد اسرائیلی بتا دیا گیا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیرغیرقانونی اورغیراخلاقی ہے اور مصر ان تعمیرات کی شدید مذمت کرتا ہے اور ان کے فوری روکے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ میں صہیونی حکومت کے امور کے نگراں علاء الدین یوسف نے طلب کیا تھا جنہیں وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد کامل عمرو نے صہیونی سفیر کی طلبی کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ترجمان نے کہا کہ انہوں نے صہیونی سفیر کو بتا دیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر نہ صرف غیرآئینی ہے بلکہ یہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی مساعی کو ناکام بنانے کی ایک سنگین سازش ہے۔
