مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق یہودی آباد کاروں کی جانب سے یہ کارروائی جنوبی مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں حلحول کے مقام پرکی گئی۔
انسانی حقوق کے کارکن اور یہودی توسیع پسندی کے خلاف سرگرم مزاحمتی کمیٹی کے رکن محمد عوض نے بتایا کہ حلحول کے مقام پر ایک فلسطینی شہری کی ملکیتی انگور کے باغ پرحملہ کرنے والے یہودی ایک قریبی کالونی’’کرمی ٹزور‘‘ سے آئے تھے انہوں نے چار سے پانچ سال کی عمر کے زیتون کے پھل دار پودوں کو آریوں اور کلہاڑیوں کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔
عوض نے بتایا کہ یہ کارروائی رات کی تاریکی میں کی گئی۔ جب باغ کا مالک صبح باغ میں داخل ہوا تو پھل دار پودے ہرطرف کاٹے پڑے تھے۔ اس نے فوری طورپر اسرائیلی پولیس کو اس کی شکایت کی تاہم صہیونی پولیس نے بھی سنی ان سنی کردی۔
خیال رہے کہ فلسطینی شہریوں کی املاک پریہودی آباد کاروں کے حملے پہلا واقعہ نہیں بلکہ مغربی کنارے میں اس طرح کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
