رپورٹ کے مطابق یہودی شرپسندوں کے اس اشتعال انگیز اقدام پر فلسطینی عوام میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ نامعلوم افراد نے ھداسا اسپتال سے متصل ایک چھوٹی مسجد گھس کروہاں رکھے قرآن پاک کے نسخے پھاڑ ڈالے۔ مسجد میں گندگی پھینکی اور وہاں نماز ادا کرنے والے افراد پر تشدد کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا۔ جب یہودی غنڈہ گرد مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں کچھ ہی فاصلے پر اسرائیلی پولیس بھی گشت کررہی تھی تاہم پولیس نے یہودیوں کو اس انتہائی اشتعال انگیز کارروائی سے روکنے کی زحمت نہیں کی۔
یہودی آبا دکاروں کی جانب سے مساجد پرحملے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہودی شرپسند آئے روز اس طرح کی ریشہ دوانیاں کرتے ہیں اور صہیونی فوج اور پولیس انہیں فول پروف سیکیورٹی مہیا کرتی ہے۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران مغربی کنارے، بیت المقدس اور فلسطین کے سنہ 1948 ء کے عرصے میں اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے فلسطینی شہروں میں مقدس مقامات میں گھس کر وہاں عبرانی زبان میں اشتعال انگیز نعروں کی چاکنگ کی گئی ہے۔
