• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

یہودی آباد کاروں نے فلسطین کی جنت نظیر وادیاں جہنم زار بنا دیں

اتوار 25-05-2014
in فلسطین
0
plf heaven
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کی سرزمین تاریخی اہمیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ سیر و سیاحت کے لیے نہایت خوبصورت اور پُرفضاء مقام بھی سمجھی جاتی ہے مگر جیسے جیسے یہودی آباد کاری کا کینسر پھیل رہا ہے، فلسطینیوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔

سیاحت کے باب میں مقبوضہ مغربی کنارے کے کئی شہر اور وادی اردن لاجواب مقامات ہیں لیکن یہودی انتہا پسندوں نے ان شہروں کا قدرتی حسن بھی برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ فلسطینی شہری نہایت غیر محفوظ ہیں۔ وہ اگر اپنے بچوں کو لے کر کسی سیرگاہ کی طرف جاتے ہیں تو انہیں راستے میں جگہ جگہ اسرائیلی فوجی چوکیوں کے علاوہ انتہا پسند مسلح یہودی جتھوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر وہ  لوٹ آنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں ورنہ یہودی انہیں اور ان کے بچوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اگر سیر کرنے والے فلسطینی نوجوان ہوں تو ان کا یہودی آباد کاروں کے ساتھ اکثر تصادم بھی رہتا ہے۔ تصادم میں کبھی یہودی فلسطینیوں کو بھگا دیتے ہیں اور کبھی فلسطینیوں کے ہاتھوں خود بھاگ جاتے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کی ایک رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کے بعض سیاحتی مقامات اور وہاں کی تباہ حال سیاحت کے بارے میں کچھ تفصیلات جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے پہاڑی علاقے اپنے چشموں، سرسبز و شاداب بیل بوٹوں اور تاریخی مقامات کی بدولت جنت نظیر سمجھے جاتے ہیں، لیکن یہودی آباد کاروں نے اس خوبصورت جنت کو جہنم زار بنا رکھا ہے۔ آپ کسی بھی دن کسی بھی پُرفضاء مقام کی طرف نکلیں تو آپ کے سامنے کئی یہودی گروپ مسلح حالت میں مقابلے کے لیے موجود ہیں۔

مغربی کنارے کے شہر نابلس سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمود المصری نے بتایا کہ اس نے اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ہمراہ جمعہ اور ہفتہ کی تعطیلات مغربی سلفیت میں وادی قانا میں گذارنے کا پروگرام بنایا۔ ہم لوگ پروگرام کے مطابق وادی قانا کی جانب روانہ ہوئے۔ وادی قانا پھل دار درختوں، سال بھر سبز رہنے والے پودوں اور ابلتے چشموں کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ ابھی ہم وادی قانا سے کچھ فاصلے پر تھے کہ ہمیں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دیں۔ درختوں کے جھنڈ میں غور سے دیکھنے پر پتہ چلا کہ ہمارے راستے میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں کا ایک گروپ بیٹھا ہے جن کے ہاتھوں میں بندوقیں ہیں۔ انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی بندوقیں تان لیں اور آگے بڑھنے سے روکنے کا اشارہ کرتے ہوئے فائر کھولنے کی دھمکی دی۔ ہمارے ساتھ صرف بچے تھے، اس لیے چارو ناچار ہمیں واپس مڑنا پڑا۔

سلفیت کی ایک خاتون اسماء جابر نے بتایا کہ وہ کچھ دیگر قریبی عزیزوں کے ہمراہ سیر و تفریح کے لیے گھر سے نکلے تو انہیں راستے میں یہودی آباد کاروں کے ایک گروپ نے روک لیا۔ ہمیں پوچھنے لگے کہ خربہ قرقش اور اس کی غاریں کہاں ہیں۔ ہمیں انہیں ان کی مطلوبہ جگہ بتائی، جس کے بعد وہ منحوت شدہ غاروں کی جانب چل دیے۔ کچھ دیر بعد ایک دوسرے یہودی گروپ کا سامنا ہوا، جس کے پاس اسلحہ تھا۔ انہوں نے ہمیں اس علاقے میں گھومنے پھرنے سے روک دیا اور دھمکی دی کہ اگر ہم اپنی مرضی کریں گے تو موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں گے۔

فلسطین کے مرکزی ادارہ شماریات کے مطابق فلسطین میں اوسط فی خاندان سالانہ سیاحت پر 47 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ مغربی کنارے میں یہ شرح 66 ڈالر اور غزہ کی پٹی میں 42 ڈالر فی خاندان ہے۔ سیاحت کے اعتبار سے جتنے مواقع مغربی کنارے میں ہیں، غزہ کی پٹی میں اس کا عشرعشیر بھی نہیں لیکن غزہ کے شہری سیاحت پر مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے بڑھ کر خرچ کرنے لگے ہیں۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہودی انتہا پسندوں نے نہ صرف مغربی کنارے میں سیاحتی مقامات پر قبضہ کر رکھا ہے بلکہ سیاحت کا شعبہ تباہی سے دوچار ہے۔

نابلس شہر کے ایک مقامی فلسطینی شہری حسین خالد نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ "جنوبی نابلس میں قائم "یتھسار” یہودی کالونی سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے شہر کی سیاحت تباہ کردی ہے۔ نابلس اور اس کےآس پاس کی پرفضاء وادیوں میں پانی کے چشموں کے اردگرد خار دار تاریں لگا کر ان تک فلسطینیوں کی رسائی بند کردی گئی ہے۔ فلسطینی نہ تو درختوں کا سایہ حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی چشموں کے پانی سے استفادہ کر پاتے ہیں۔

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.