رپورٹ کے مطابق الشیخ رائد صلاح نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہودی انتہا پسندوں نے مسجد اقصیٰ کو اپنی سازشوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ فلسطینی قوم اپنا خون اور جانیں دے کرقبلہ اول کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے تمام فلسطینی شہریوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ قبلہ اول کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بناتے ہوئے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت مسجد اقصیٰ میں گذاریں تاکہ یہودی انتہا پسندوں کی ریشہ دوانیوں کی روک تھام کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی کی نسبت موجودہ دور میں قبلہ اوّل کو زیادہ سنگین نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے کیونکہ یہودی آباد کار مذہبی تہواروں کی آڑ میں مقدس مقام کی کھلے عام بے حرمتی کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی شہریوں کو چاہیے کہ وہ قبلہ اوّل میں اعتکاف کی نیت سے اپنا وقت عبادت و ریاضت میں گذاریں، فجر اور عشاء سمیت تمام نمازوں کی قبلہ اوّل میں باجماعت ادائیگی کو یقینی بنانے کی کوشش کریں تاکہ یہودیوں کو یہ پیغام ملے کہ فلسطینی قوم اپنے قبلہ اوّل سے پوری طرح وابستہ ہے۔
ادھر یہودی شدت پسندوں کی جانب سے قبلہ اوّل میں دھاوے بولنے کے لیے اپیلیں ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہیں۔ یہودی انتہا پسندوں کی جانب سے یہودیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آنے والےایام میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کریں۔
قبلہ اوّل کے امورکے ڈائریکٹر الشیخ عمر الکسوانی نے بھی اسرائیلی آباد کاروں کی قبلہ اوّل پریلغار کی مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ یہودی انتظامیہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قبلہ اوّل میں یہودیوں کو داخلے کا موقع فراہم کرتے ہوئے مسلمانوں کو وہاں عبادت کے لیے آنے سے روک رہی ہے۔
