اسرائیل میں مسجد اقصیٰ کے خلاف سرگرم شرپسند یہودی آباد کاروں نے آج [جمعرات] کو اسرائیل بھر کے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ پر یلغار کرنے کے لیے قبلہ اول کےپاس جمع ہونے کی اپیل کی ہے۔
مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی مذموم خواہش کے لیے کام کرنے والے یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے کا یہ اعلان عبرانی سال کےآغاز میں "طوبشبت” نامی ایک مذہبی تقریب کی مناسبت سے دیا ہے۔ یہودیوں کی مذہبی تعلیمات اور عبرانی سال نو کے آغاز میں "طوبشبت” کے تہوار کا آپس میں گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے موقع پر یہودی آباد کار خصوصاً ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی خواہاں طاقتیں قبلہ اول کے قریب جمع ہوکر وہاں پر ہیکل کی تعمیر کے منصوبے بناتی اور مسجد اقصیٰ میں مذہبی رسومات ادا کرتی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہودی انتہا پسند تنظیمیں مسجد اقصیٰ کےخلاف سازشوں کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں۔ کبھی تو سماجی روایات کی آڑ میں قبلہ اول پر یلغار کردی جاتی ہے اور کبھی مذہبی تہواروں، بچوں کی عیدوں، سال نو کی تقریبات اوربیرون ملک سے یہودی سیاحوں کے دوروں کی آڑ میں قبلہ اول کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔
تنظیم کے مطابق ان تمام واقعات کو یہودی مذہب سے جوڑ کرانہیں تقدس کا درجہ دیا جاتا ہے تاکہ دنیا کے سامنے مذہب کی آڑ میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی جاسکے۔ پچھلے دو روز سے یہودیوں کے مذہبی تہوار "طوبشبت” کی تیاریاں جاری ہیں۔ انتہا پسند گروپوں نے فلسطین بھرمیں آباد کیے گئے یہودیوں سے کہا ہے کہ وہ آج جمعرات کو قبلہ اول میں جمع ہو کر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے کسی نئی اسکیم پر غور کریں۔
تنظیم کے بیان کے مطابق پچھلے چند روز سے یہودی انتہا پسندوں کے علاوہ یہودی عورتوں، بچوں، اسکولوں اور جامعات کے یہودی طلباء، صحافیوں حتیٰ کہ پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کی غیر معمولی تعداد بھی مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتی ہے اور اس کی مبینہ بے حرمتی کرتی رہی ہے۔
