مغربی کنارے کے شہر نابلس میں سرگرم گروہی تعاون کمیٹی نے انتہاء پسند یہودیوں کی جانب سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے حملوں کے جواب میں مزاحمت کو تیز کرنے اور صہیونی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں بالخصوص بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی رہائی کی کوششوں کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بین الجماعتی تعاون کمیٹی کی جانب سے پیر کے روز ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ یہودی آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں پر حملے تیز کردیے ہیں اور یہ یہودی ٹولے اسرائیلی فوج کے ونگ کے طور پر سرگرم ہوگئے ہیں۔ حملے یہودی گروپوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے بعد تیزی سے بڑھے ہیں کیونکہ اسرائیلی انتہاء پسند حکومت نے یہودی آباد کاروں کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
کمیٹی نے خبردار کیا کہ حالیہ عرصے میں القدس میں رہائشیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ان کو ہجرت پر مجبور کرکے ان کے گھروں پر قبضہ کرلیا گیا، نابلس میں کاروں کو جلانے کے واقعات ہوئے۔ زیتون کے درختوں کو اکھاڑا گیا اور شہریوں کے گھروں پر قبضہ کیا گیا، الاغوار کے علاقے میں بھی بدو خاندانوں کو اجتماعی ہجرت پر مجبور کردیا گیا۔ ادھر مغربی کنارے کے تمام شہروں میں اسرائیل نے یہودی بستیوں میں توسیع کے متعدد منصوبوں کا آغاز کردیا۔ یہ سب جارحانہ کارروائیاں اسرائیلی فوج اور یہودی گروپوں کے آپس میں بھرپور تعاون کا نتیجہ ہیں۔
کمیٹی نے فلسطینیوں سے تمام اختلافات ختم کرکے ایک ہوکر اسرائیلی خطرے سے نمٹنے کا مطالبہ کیا۔ اور فلسطینی اتھارٹی کو اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ بالخصوص مغربی کنارے میں کی ابتر معاشی حالت، بے روز گاری، قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سیاسی قیادت کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے اصلاح احوال کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
