انتہاء پسند یہودی آباد کاروں کے ایک جتھے نے جمعرات کے روز مسجد اقصی پر دھاوا بولا۔ اسرائیلی فوج کی نگرانی میں یہودی مسجد اقصی کے صحن اور راہداریوں میں دندناتے رہے جس سے مسجد میں موجود نمازیوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔
الاقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ کے ترجمان محمود ابو عطا نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو بتایا کہ شدت پسند یہودی آباد کاروں کا گروہ مسجد اقصی کے مراکشی دروازے سے علی الصبح مسجد میں داخل ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر ذرائع ابلاغ بھی آباد کاروں کے ہمراہ تھے۔
حرمین شریفین کے بعد تیسری مقدس ترین مسجد اقصی میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور یہودی آباد کاروں کی موجودگی میں قبلہ اول کے نمازیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ابو عطا نے بتایا کہ اسرائیلی عہدیداروں اور آباد کاروں کے مسجد اقصی میں آنے کا مقصد مسجد اور اس کی اسلامی شناخت میں تبدیلی لانے کے پروگرام کو آگے بڑھانا تھا۔ خیال رہے کہ اسرائیلی انتہاء پسند یہودیوں کے گروہ آئے روز مسجد میں داخل ہوکر اس کی بے حرمتی کرتے رہتے ہیں۔ اسرائیل کی دیرینہ خواہش ہے کہ مسجد اقصی اور گنبد صخرہ کو گرا کر اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے۔
أعلى الصفحة
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

