ایک جانب صہیونی حکومت اور ریاست کے تمام ادارے انتہا پسند گروپوں کی مدد سے دنیا بھر سے یہودیوں کو جمع کر کے فلسطین میں آباد کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، دوسری جانب یہودی آباد کار خود کو ٰغیر محفوظ قرار دے کر فلسطین چھوڑنے لگے ہیں۔
اسرائیل کے مرکزی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران یہودیوں کی ایک قابل لحاظ تعداد بیرون ملک نقل مکانی کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیرون ملک منتقل ہونے والے یہودی خاندانوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ بیرون ملک سے اسرائیل میں آباد ہونے والوں کی تعداد کم سے کم تر ہو رہی ہے۔
صہیونی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2010ء میں پندرہ ہزار600 یہودی آبادکار اسرائیل چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جا کر آباد ہوئے ہیں جبکہ سنہ 2011ء میں یہ تعداد مزید اضافے کے بعد 16 ہزار200 تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح سنہ 2010ء میں باہر سے اسرائیل میں مجموعی طورپر 8800 یہودی آباد ہوئے اور سنہ 2011 میں یہ تعداد 7500 تک کم ہو گئی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
