فلسطین میں قابض انتہا پسند یہودیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ پر دھاوا بولنے کے بعد نہ صرف مقدس مقام کی بے حرمتی کا شرمناک مظاہرہ کیا ہے بلکہ مسجد سے متصل مقام پر الگ سے ایک عمارت تعمیر کرنے کے لیے تعمیراتی سامان بھی اتارا گیا ہے.
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ منگل کو درجنوں یہودی آباد کاروں نے جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ پر یلغار کی اور مسجد سے متصل البدیری وقف میں ایک عمارت کی تعمیر کے لیے تعمیراتی سامان اتار۔ بعد ازاں وہاں پر کچھ تعمیراتی کام شروع بھی کردیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ مسجد ابراہیمی کی توسیع کرتے ہوئے البدیری خاندان کی املاک کو بھی مسجد کے لیے وقف کردیا گیا تھا، جس کے بعد زمین کا یہ حصہ بھی مسجد ابراہیمی کا جزو سمجھا جاتا ہے۔
فلسطینی محکمہ اوقاف نے صہیونی حکام اور انتہا پسند یہودیوں کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے اسلامی اوقاف اور مقدس مقامات پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسجد ابراہیمی پر یہودیوں کی یلغار کےمواقع پیدا کرکے مسلمانوں کو اس مقدس مقام سے مکمل طور پر محروم کرنا چاہتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
