مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر بسنے والے یہودیوں کی جانب سے فلسطینی املاک پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وسطی شہر رام اللہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک یہودی جتھے نے شہر کے شمال مغربی علاقے میں فلسطینیوں کے باغات پر دھاوا بولا اور سیکڑوں زیتون اور انجیر کے درختوں اکھاڑ پھینکا۔
فلسطینی قومی مزاحمتی تحریک نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ یہودی بستی ’’حلامیش‘‘ کے انتہاء پسندوں نے بدھ کی شام 150 سے زائد زیتون کے درخت اور 40 کے قریب انجیر کے درختوں کو اکھاڑا، دیر نظام گاؤں کے قریب اس کارروائی میں درجنوں افراد نے حصہ لیا۔
قومی انتفاضہ تحریک نے زور دیا کہ اسرائیلی یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی اراضی، جائیدادوں پر حملے اور درختوں کو اکھاڑنے سے فلسطینی قوم میں اشتعال بڑھ گیا ہے۔ جس کے بعد فلسطینی قوم اپنے حقوق کے حصول کے لیے اسرائیل کے خلاف تیسرا انتفاضہ شروع کر سکتی ہے.
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
