قبلہ اول پر انتہا پسند یہودیوں کی یلغار اور مقدس مقام کی مبینہ بے حرمتی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز انتہا پسند یہودیوں اور اسرائیلی وزارت خارجہ کے مندوبین
کی بڑی تعداد نے مراکشی دروازے سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر صہیونی فوج اور پولیس کی جانب سے انتہا پسندوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیر و مرمت کی ذمہ دار تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ” کے ڈائریکٹر اطلاعات محمود ابو العطاء نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی "صفا” کو بتایا کہ جمعرات کو 66 یہودی آباد کاروں نے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔ یہودی مختلف جتھوں کی شکل میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے رہے۔ ان میں 40 اسرائیلی وزارت خارجہ کے مندوبین بھی شامل تھے۔
محمود ابوالعطاء نے بتایا کہ یہودی شرپسندوں کے قبلہ اول میں داخلے کے وقت مسجد اقصیٰ سے متصل دینی مدرسے کے سیکڑوں طلباء موجود تھے۔ انہوں نے یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر اسلام زندہ باد اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ فلسطینی طلباء نعرے لگا رہے تھے کہ اسرائیلی پولیس نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور انہیں یہودیوں کے خلاف نعرے بازی سے روک دیا۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کے عہدیدار نے بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں، صہیونی پولیس اور فوج نے مل کر فلسطینی آبادی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ فلسطینی شہریوں کی تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں فلسطینی دکانداروں کو طرح طرح سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
