مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے "تل ھشومیر” اسپتال کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اسپتال میں داخلہ دوابشہ خاندان کے دو میاں بیوی اوران کا ایک بیٹا انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیے گئے ہیں۔ ان کی حالت بدستور خطرے میں ہے اور ان کی زندگی بچانے کے لیے ایک سال تک انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ مکان میں آتش زدگی کے مجرمانہ واقعے کے دوران بری طرح جھلسنے والی خاتون کے جسم کا بیشتر حصہ جل چکا ہے اور اس کی حالت شوہر اور اس کے بیٹے سے زیادہ تشویشناک ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے جمعہ کو فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں دوما گائوں میں انتہا پسند یہودیوں نے ایک فلسطینی شہری کے مکان پر آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگادی دی تھی۔ یہ بزدلانہ حرکت رات کے وقت کی گئی جس میں ایک اٹھارہ ماہ کا بچہ جل کر شہید اور اس کے والدین اور ایک بھائی بری طرح جھلس گئے تھے۔ انہیں علاج کے لیے اسرائیلی اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔
گذشتہ روز فلسطینی وزیرصحت جواد عواد نے بتایا تھا کہ شہید بچے کی والدہ کی حالت نازک ہے تاہم اس کے بھائی چار سالہ احمد کے زندہ بچ جانے کے امکانات ہیں کیونکہ اس کا جسم کا نچلہ حصہ آگ میں جھلس گیا ہے جب کہ بقیہ جسم کافی حد تک محفوظ ہے۔
قبل ازیں ڈاکٹروں کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ مکان میں آگ لگنے سے خاتون کا 90 فی صد جسم جھلس گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
