مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں کی اسلام اور فلسطین دشمنی اس حد تک وسعت اختیار کر چکی ہے کہ فلسطین میں آباد مسلمانوں کے ساتھ عیسائی بھی ان کی شرپسندی سے غیرمحفوظ ہو گئے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کی ایک رپورٹ کے مطابق منگل کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اورعیسائیوں کی اکثریتی آبادیوں میں گھس کر انتہا پسند یہودی اسلام اور عیسائیت کےخلاف توہین آمیزنعروں کی وال چاکنگ کرتےرہے۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں ایک سکول اور یہودی کالونی کی دیواروں پرعیسائیت کے خلاف شرانگیز نعرے تحریر کیے گئے۔
پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری نے بتایا کہ انتہا پسند یہودیوں نے اسکول اور کالونی کی دیوار پرعربی اور عبرانی زبانوں میں عیسائی مذہب، اسلام، مسلمانوں، فلسطینیوں اورعیسائیوں کےخلاف توہین آمیز الفاظ میں نعرے تحریر کیے گئے۔ اس کے علاوہ مشرقی بیت المقدس میں الصفافا کے مقام پر انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے عبرانی اور عربی میں چاکنگ کی گئی تھی جس میں مسلمانوں اور اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی۔ کئی دیواروں پر درج نعروں میں انتہا پسندوں نے مقامی مسلم اور مسیحی آبادی کو سنیگن نتائج کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ ان میں مساجد اور عیسائی چرچوں پر حملوں کی دھمکیاں خاص طور پر شامل ہیں۔

