مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کی عبرانی یونیورسٹی میں انتہا پسندیہودیوں کی طرف سے قتل کی دھمکیوں کے بعد زیرتعلیم عرب طلباء وطالبات کی زندگیاں سخت خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق عبرانی یونیورسٹی میں صہیونی شرپسندوں نے دھمکی دی ہے کہ گذشتہ منگل کے روز فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہاریکجہتی کے طورپر مظاہرہ کرنے والے طلباء کوقتل کیا جائے گا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انتہا پسند یہودیوں کی حمایت میں سرگرم تنظیم” ایم ٹرنسو” نے اپنی ویب سائیٹ پرایک بیان جاری کیا ہے، خبر کے ساتھ ان طلباء کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جنہوں نے صہیونی مظالم کا شکار فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔
تصاویر کے ساتھ جاری بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ یہ تمام طلباء جنہوں نے فلسطینی اسیران کی حمایت میں احتجاج کیا وہ اپنی زندگیوں کا خیر نہ منائیں۔ انہوں نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرکے اسرائیل کے ساتھ دشمنی اور حماس جیسی اسرائیل دشمن تنظیموں کے ساتھ دوستی کا ثبوت دیا ہے۔
صہیونی تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں فلسطینی اور عرب طلباء کےخلاف نسل پرسانہ اور دہشت گردانہ نعرے درج کیے گئے ہیں۔ جن میں”انہین جلادو” حقیر” واجب القتل” انہیں غزہ بدرکردیا جائے” دہشت گرد” اور ان دہشت گردوں کے لیے عبرانی یونیورسٹی میں کوئی جگہ نہیں۔
بیان میں صہیونی تحریک نے ان تمام عرب اور فلسطینی طلباء کو یونیورسٹی سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طورپر مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔
أعلى الصفحة

