یہودی وزیر نے مقبوضہ بیت المقدس میں ابراہیم العکاری نامی فلسطینی نوجوان کو موقع پر گولیاں مار کر شہید کرنے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ العکاری نے اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی جان لی تھی، اس لیے اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی گاڑیوں سے یہودیوں کو ٹکر مارنے والے ہر فلسطینی کا یہی انجام ہو۔
اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا ابراہیم عکاری کا پورا خاندان اسرائیل کا دشمن ہے۔ اسرائیل کے لیے دشمن پیدا کرنے والے فلسطینیوں کو بھی زندہ رہنے کا حق نہیں۔ حکومت بیت المقدس میں عکاری کے خاندان کا مکان مسمار کردے گی۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل ایک دوسری جماعت ’’میرٹز‘‘ کے رکن عیساوی فریگ نے داخلی سلامتی کے وزیر کے بیان کو شدید تنقید کا نشان بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑے سے بڑے ملزم کو سزا دینے سے قبل اس کا عدالتی ٹرائل جمہوری دنیا کا مروجہ طریقہ کار ہے اور آمرانہ نطام حکومت اور بادشاہتوں میں ماورائے عدالت ملزموں کو جرم ثابت کیے بغیر قتل کردیا جاتا ہے۔اگر اسرائیل میں بھی اس کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ بھی ایک قسم کی آمریت ہوگی۔
اسرائیل میں سرگرم انسانی حقوق کی ایک تنظیم ’’بتسلیم‘‘ نے بھی داخلی سلامتی کے وزیر کے بیان پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ بغیر عدالتی ٹرائل کے کسی شخص کو موت کے گھاٹ اتار دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ ایک وزیر کی سطح کی شخصیت کی جانب سے اس نوعیت کا بیان نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
