مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے نابلس کے علاقے کفر قلیل میں ایک آپریشن کے دوران درجنوں گھروں میں گھس کر آٹھ فلسطینیوں کو گرفتار کیا، الخلیل کے مختلف علاقوں میں بھی اسرائیلی فوج فلسطینی بستیوں پر ٹوٹ پڑی، ادھر اسی شہر کے یہودی آباد کاروں نے امن رضاکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد پیر کے روز کفر قلیل کے علاقے میں داخل ہوئی اور اس گاؤں کے مختلف گھروں میں گھس کر تلاشی لینا شروع کردی، اس دوران مردوں، عورتوں، بزرگوں اور بچوں کو گھروں سے نکال کر گھنٹوں سخت سردی میں کھڑا کر کے پوچھ گچھ کی گئی۔
گھروں کے مالکان نے بتایا کہ صہیونی اہلکاروں نے متعدد گھروں کے دروازے اور اندر موجود متعدد اشیا توڑ ڈالی ہیں جس سے انہیں بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس خوفناک آپریشن کے دوران صہیونی سکیورٹی اہلکاروں نے گاؤں کے آٹھ افراد کو گرفتار کرکے تفتیشی مراکز منتقل کر دیا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد کے نام مصطفی عامر، نصیر باسل عامر، شلبی فایز عامر، عبد اللہ حسن عامر، عماد بکر، بھاءعامر، جابر حکمت عامر اور صقر خالد ابو السعود ہیں۔
اس موقع پر صہیونی فوج نے گاؤں کے تین نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے لیے تفتیشی مرکز میں حاضری دینے کے نوٹسز بھی جاری کیے۔ شہری ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک ٹولے نے شہر کے مشرقی علاقوں پر بھی دھاوا بولا اور متعدد افراد کو زدو کوب کیا۔
مغربی کنارے کے سب سے بڑے تاریخی شہر الخلیل میں بھی رات گئے اسرائیلی فوج نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیے۔ اس دوران العروب کیمپ میں فوجی اہلکاروں اور فلسطینی نوجوانوں کے مابین جھڑپیں شروع ہوگئیں جس میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے اشک آور گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں برسا کر مزاحمت کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کو منتشر کیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے برسایا گیا زہریلی گیس کا ایک شیل ایک فلسطینی کے گھر میں جا گرا جس سے گھر میں آگ لگنے سے بھاری مالی نقصان ہوا۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں نے السموع، یطا، اذنا اور بنی نعیم کے علاقوں میں گھس کر نئی چیک پوسٹیں بنا لی ہیں۔
الخلیل میں ہی انتہاء پسند یہودیوں کے ٹولوں نے اسرائیلی کنیسٹ میں حزب اختلاف کی ایک پارٹی ’’میرٹز‘‘ کے اراکین پارلیمان اور رضا کاروں پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ الخلیل میں موجود تاریخی آثار سے آگاہی کے لیے طلبہ کے ہمراہ مسجد ابراہیمی اور حرم ابراھیمی کا دورہ کر رہے تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

