مصر میں انسانی حقوق کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دینے کی بنا پر وائٹ ہاؤس میں ایک اعزازی تقریب کے لیے مدعو مصری خاتون کو اس بنا پر تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا ہے کہ انہوں نے سماجی روابط کی معروف ویب سائٹ ’’ٹویٹر‘‘ پر یہودیوں کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
امریکا کی خاتون اول مشعل اوباما کی موجودگی میں اس تقریب کا انعقاد دنیا کی دس خواتین کو اعزاز و اکرام سے نوازنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم ایک امریکی ہفت روزہ میں شائع ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ مشعل اوباما آسمانی مذاہب کی مخالف خاتون کو عزت و اکرام سے دینگی۔
امریکی جریدے کے اس بیان کے بعد واشنگٹن انتظامیہ حرکت میں آ گئی اور آسمانی مذاہب کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں اس خاتون کے دعوت نامے کو فوری منسوخ کردیا گیا۔
مصری خاتون سمیرہ ابراھیم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے بیانات دیے تھے جو امریکی دشمنی اور یہودیوں کے خلاف تشدد کی تائید پر مبنی تھے۔
امریکی جریدے کے مطابق مصر خاتون نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں میں گزشتہ گرمیوں میں بلغاریہ میں ایک بس دھماکے میں پانچ یہودیوں کے قتل پر اظہار خوشی کیا تھا۔ ان کے ایک دوسرے ٹوئیٹ میں انہوں نے جرمن نازی رہنما ہٹلر کی زبان میں یہ کہا تھا ’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ انکشاف ہوتا گیا کہ اخلاقیات کے منافی ہر کام اور ہر معاشری جرم کے پیچھے یہودیوں کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے‘‘
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
