مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودی گلیک نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ’’فیس بک‘‘ کے اپنے خصوصی صفحے پرایک بیان پوسٹ کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں آنے والے تمام فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے کیونکہ وہاں آنے والے تمام فلسطینی خطرناک ہیں۔ بالخصوص وہ فلسطینی خواتین جو یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے طاقت کے استعمال کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔
یہودی ربی کا کہنا ہے کہ ہماری فوج اور پولیس آج تک صبر کا دامن ہاتھ میں تھام کر چلتی رہی ہے، ورنہ مسجد اقصیٰ میں آنے والے فلسطینی نمازیوں کو روکنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ گلیک نے اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے پر صہیونی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت یہودی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
یہودی ربی نے خبردار کیا کہ اگر سیکیورٹی اداروں نے جبل ہیکل[مسجد اقصیٰ] میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو خون خرابے کو روکنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ وہ مسجد اقصیٰ میں نماز اور عبادت کے ساتھ ساتھ یہودیوں پر حملوں کے لیے آتے ہیں۔
یہودا گلیک نے الزام عاید کیا کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ میں موجود ایک فلسطینی خاتون نے ایک یہودی خاتون ربیہ پر پانی پھینک ڈالا تھا لیکن اسرائیلی پولیس نے اس واقعے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
