امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی نے حال ہی میں کئی فلسطینی سول اداروں کے جو کہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہیں، پراجیکٹس کی فنڈنگ روک دی ہے۔
وکیل صلاح عودہ نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا ہے کہ "اس مسئلے کا آغاز اس وقت ہوا جب فلسطینی این جی اوز کو مانیٹر کرنے والے اسرائیلی سنٹر نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے تمام فلسطینی اداروں کی مانیٹرنگ شروع کردی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سنٹر نے پچھلے سال یو ایس ایڈ سے فنڈنگ لینے والے اور اسرائیلی کے بائیکاٹ کے لئے منعقدہ سرگرمیوں میں حصہ لینے والے فلسطینی سول اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس ہرزہ سرائی کے نتیجے میں کچھ اداروں کے مرکزی دفاتر میں چھاپوں اور تلاشی مہمات ہوئیں اور ان اداروں کی ملکیتی اشیاء کو قبضے میں لے لیا گیا۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن عمر ناصر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے کی سرگرمیاں اور پوری دنیا میں مختلف اداروں کی جانب سے سرگرمیوں سے قابض حکام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان پر دبائو بڑھ رہا ہے۔
عودہ کا کہنا تھا کہ یو ایس ایڈ کی فنڈنگ سے چلنے والی فلسطینی این جی اوز کے ترقیاتی منصوبے اچانک رک گئے۔
ایک اور کارکن سھاد مصری کا کہنا ہے کہ یو ایس ایڈ نے ان پراجیکٹس کی فنڈنگ اس لئے روک دی ہے تاکہ وہ ان اداروں کو اسرائیل کے بائیکاٹ کی حمایت کرنے پر سزا دے سکے۔
انہوں نے امریکی فنڈنگ کا بائیکاٹ کرنے کے لئے ایک اتحاد بنانے اور امریکہ سے شرائط پر فنڈ لینے کو جرم قرار دینے کا مطالبہ کیا
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
