اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب رکن احمد طیبی پر بار ایلان یونیورسٹی میں ایک مذاکرے کے دوران انتہا پسند یہودی طلبہ نے حملہ کر دیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یونائٹڈ عرب لسٹ کے ٹکٹ پر کنیسٹ کے رکن منتخب ہونے والے احمد طیبی گزشتہ روز دائیں بازو کی اسرائیلی جماعت یسرائیل سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی سیاستدان ارییہ الداد کے ہمراہ الیکشن کے موضوع پر بار ایلان یونیورسٹی میں ایک مذاکرے میں شریک تھے۔ اس دوران ہال میں موجود نوجوان طلبہ کے ایک گروپ نے احمد طیبی پر آوازے کسنے شروع کر دیے اور چلانا شروع کر دیا: "تم بچوں کے قاتل ہو، غزہ چلے جائو، شام چلے جائو ۔۔۔۔ وہی تمہارا اصل ٹھکانہ ہے۔”
اس دوران ایک سولہ سالہ یہودی طالبہ نے احمد طیبی پر تھوکنے کی کوشش کی تاہم حال میں موجود سکیورٹی گارڈز عرب رکن پارلیمنٹ کو اپنے حفاظتی حصار میں ہال سے باہر لے گئے۔
احمد الطیبی نے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسی صورت حال سے مجھے ڈرایا نہیں جاسکتا۔ میں ہر جگہ جائوں گا حتیٰ کہ جہاں نسل پرست موجود ہوں۔ انہوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ میں فلسطینیوں کی جد و جہد آزادی کی حمایت کرتا ہوں۔ لوگوں کو حق حاصل ہے کہ وہ قبضے کے خلاف جدوجہد کریں۔ ” جسے تم اسرائیل کہتے ہو میں اسے تسلیم نہیں کرتا۔”
درایں اثنا حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زہری نے عرب رکن پارلیمنٹ احمد الطیبی پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اسرائیل میں بڑھتے ہوئے نسلی امتیازکا مظہر ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
