یوفری نیٹ ورک برائے دفاع فلسطینی اسیران نے قابض حکام کی جانب سے مرحوم فلسطینی اسیر حسن الترابی کی صحت کو نظرانداز کئے جانے کی شدید تنقید کی ہے۔ فلسطینی اسیر حسن الترابی کینسر کے مرض میں مبتلاء ہو کر اسرائیلی جیل میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔
حسن الترابی کو خرابی صحت کے باجود یکم جنوری 2013 کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان کی شہادت کے بعد اسرائیلی جیلوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 205 ہوگئی ہے۔
یوفری نیٹ ورک نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے فلسطینی اسیران کے خلاف ہونے والے اسرائیلی جرائم پر خاموشی کوتنقید کا نشانہ بنایا اور بتایا کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید 1600 فلسطینی اسیر بیمار ہیں اور ان میں سے 25 اسیران کو کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہے۔
اوسلو میں قائم اس نیٹ ورک نے مطالبہ کیا ہے کہ چوتھے جنیوا کنویشن پر دستخط کرنے والی پارٹیاں اسرائیل کی جانب سے اسیران کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کو ختم کروانے کے لئے فوری طور پر مداخلت کریں اور اور ان کی رہائی کے اقدامات کریں۔
دریں اثناء اسرائیلی جیلوں میں اسیر حسن الترابی کی شہادت کے بعد اسیران کے احتجاج کو قابو میں کرنے کی اسرائیلی کوششوں کی وجہ سے کشیدگی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔
اسیران کی تحریک نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی اسیران نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ہے جبکہ وکلاء نے اسرئیلی عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔
