فلسطین کی یورپی تعلقات کونسل نے یورپی وزیر خارجہ کی جانب سے مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں تیار کردہ مصنوعات کو دیگر اشیاء سے ممتاز کرنے کے فیصلے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے فلسطین کے معاملے پر یورپ کے موقف کی بھرپور تعریف کی۔
کونسل نے ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ یورپ کا یہ فیصلہ انتہائی مثبت ہے، اگرچہ یہ فیصلہ تاخیر سے کیا گیا جیسا کہ مئی 2012ء سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا تاہم یہ فیصلہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے خلاف حقیقی اقدام شمار ہوگا جس سے یہودی بستیوں کے جواز کو بھی شدید ٹھیس پہنچے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہودی بستیوں کے اندر تیار کی گئی مصنوعات کو ممتاز کرنے کے بعد ان پروڈکٹس کے یورپ میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی جائے۔ اسی طرح یورپ اور اسرائیل کے مابین ورکنگ ایگریمنٹ پارٹنرشپ معاہدہ بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسرائیل انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی صریخ خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یورپی یونین کے 13 وزراء خارجہ، جن میں برطانیہ کے ولیم ہیگ، فرانس کے لارنٹ فیبیوس بھی شامل تھے نے یورپی یونین کی جانب سے یہودی بستیوں کی مصنوعات کو عام مارکیٹوں میں نمایاں کرنے اور ان پر خصوصی ٹیگ لگانے کے عمل میں مدد کرنے کا اظہار کیا تھا۔ ان پروڈکٹس کے لیے ٹیکس کی چھوٹ بھی ختم کردی گئی تھی۔ یورپی یونین کے ان اقدامات کے بعد کسٹمرز کو مارکیٹوں میں یہودی بستیوں کی پروڈکٹس کو پہچاننے میں آسانی ہوجائے گی۔
دوسری جانب یورپی تعلقات کی فلسطینی کونسل نے یورپی یونین کے وزراء خارجہ کی جانب سے یورپی یونین کی خارجہ تعلقات کی انچارج کیتھرائن ایشٹن کو لکھے گئے خط کو بھی سراہا ہے۔ اس خط میں یورپی وزراء خارجہ نے کیتھرائن سے فلسطین اسرائیلی تنازع میں فلسطینیوں کی مدد کرنے کا کہا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
