مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی جماعت تحریک ’’فتح‘‘ کی سینٹرل کمیٹی کے رکن اور جماعت کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ڈاکٹر نبیل الشعث نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ممبر ممالک دائیں اور بائیں بلاکس میں تقسیم ہیں۔ ان میں کچھ فلسطینی ریاست کی کھل کرحمایت کرتے اور کچھ اس کی سخت مخالفت کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی پارلیمنٹ آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے لیے متفقہ قرارداد منظور نہیں کرسکی ہے اور مزید صلاح مشورے کے لیے معاملہ موخر کردیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں نبیل شعث نے کہا کہ یورپی پارلیمان میں شامل دائیں بازو کے گروپ فلسطینی ریاست کی حمایت کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کی مخالفت کے بعد پارلیمنٹ میں آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت میں پیش کی گئی قرارداد پر رائے شماری روک دی گئی ہے۔ تاہم اس پر مزید صلاح مشورہ ابھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے رائے شماری کی قرارداد موخر کیے جانے کا فائدہ بھی فلسطینی قوم کو ہوگا۔ کیونکہ یورپی یونین کے ممبر ممالک میں فلسطینی ریاست کی حمایت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ آخر کار یورپی پارلیمنٹ بھی فلسطینی ریاست کی حمایت میں قرارداد منظور کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔
نبیل شعث نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کے سخت سوچ رکھنے والے ممالک کی تعداد زیادہ ہے۔ دائیں بازو کے یورپی ممالک اسپین کی طرز پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حامی ہیں۔ اسپین کا فارمولہ یہ ہے کہ پہلے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل خود افہام وتفہیم کے ذریعے کسی نقطے پر اتفاق کریں۔ اس کے بعد وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیں گے۔ لیکن فریقین کے عدم اتفاق کی صورت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا مسئلے کو مزید الجھانے کا باعث بن سکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
