اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس میں ایک تاریخی مسجد کو یہودی معبد میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اس امر کا انکشاف عبرانی اخبار ‘ہارٹز’ نے اپنی حالیہ اشاعت میں کیا ہے۔
اخبار کے مطابق اسرائیل کی آثار قدیمہ اتھارٹی یروشلم میں مسجد داؤد کی اسلامی شناخت مٹانے کے درپے ہیں۔ یاد رہے کہ مسجد داؤد گذشتہ دنوں یہودی آبادکاروں کے ہاتھ تاراج ہو چکی ہے۔
انتہا پسند یہودیوں نے مسجد پر حملہ کر کے عثمانی دور میں تعمیر کردہ سنگ مرمر دیوار کو نقصان پہنچایا۔ یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد کو پہنچائے جانے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے بجائے اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ نے مسجد کو یہودیانے کا کام شروع کر دیا۔ یہ مسجد سترہویں صدر میں تعمیر کی گئی، جسے اب اسرائیلی انتطامیہ کی ملی بھگت سے یہودی معبد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
