فلسطینی اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کے ایک سابق عہدیدار اور سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کے قتل کی تحقیقات کے شریک کار نے الزام عائد کیا ہے کہ مرحوم صدر کے قتل کی سازش میں فلسطینی اتھارٹی کی صف اول کی قیادت کے کچھ لوگ ملوث ہیں۔
اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار فھمی شانہ نے اعلان کر دیا کہ ان کے پاس رام اللہ اتھارٹی کی کرپشن کے حوالے سے دستاویز موجود ہیں جن کو وہ عنقریب ذرائع ابلاغ میں نشر کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر میں موجود رفیق حسینی کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔ فھمی شبانہ کے بہ قول ‘‘یہ ثابت ہو چکا کہ ابو عمار طبعی موت نہیں مرے بلکہ انہیں قتل کیا گیا اور اسرائیل نے ان کے اطراف پھیلے اپنے ایجنٹوں کو ان کو قتل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے‘‘
شبانہ کے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو موصول ہونے والے بیان میں بہت سے حقائق کی نشاندہی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم صدر کو معمولی سی کھانسی ہونے پر ان کے خصوصی ڈاکٹر اشرف کرد کو بلایا جا سکتا ہے تو انتہائی خطرناک مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ان کے خاص ڈاکٹر کو کیوں فورا نہیں بلایا گیا اور ان کے بلانے میں بلاوجہ تاخیر کیوں کی گئی۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ فھمی نے استفسار کیا کہ صدر یاسر عرفات کی دوائیوں کے باکس کی حفاظت اور ان کے قتل کے بعد ان باکسز کو تلف کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ مرحوم صدر کا علاج اور ادویات تجویز کرنے والا فلسطینی طبیب کون تھا اور اس نے ایلات کی کراسنگ سے غیر معمولی طور پر اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت کیسے حاصل کی؟ اس طبیب نے یاسر عرفات کی موت کے بعد اپنے عملے کے ہمراہ ایک خلیجی ریاست کا سفر کیوں کیا؟ وہ عہدیدار کون ہے جس نے اس ڈاکٹر کو مرحوم صدر کے علاج کے لیے عربی ہسپتال سے بلوایا؟ اور اس کے فلسطین واپس لوٹنے پر اس سے تحقیق کیوں نہیں کی گئی؟
لرزہ خیز انکشافات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شبانہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ فلسطینی خفیہ ایجنسی کی سربراہی کرنے والے بریگیڈئیر توفیق طیراوی کو مرحوم صدر کے قتل کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی فتحاوی کمیٹی کا حصہ کیوں بنایا گیا حالانکہ اس کی جانب سے تشکیل کردہ خفیہ ایجنسی کی کمیٹی اسی مقصد میں ناکام ہو چکی تھی۔
فھمی شبانہ نے یاد دلایا کہ طیراوی وہ شخص تھا کو ابو عمار یاسر عرفات کی وفات سے قبل اسرائیل کو سب سے زیادہ مطلوب تھا، صہیونی حکام اسے زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں پکڑنے کے لیے بے تاب تھے تاہم ابو عمار کی شہادت کے بعد اسرائیل نے نہ صرف طیراوی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا بلکہ اس شخص کو اہم شخصیت ہونے کا کارڈ بھی جاری کردیا۔ اس کے لیے اعزاز و اکرام کے تمام دروازے کھول دیے گئے۔ اس کی بیوی فواد شویکی کی وفات پر اس کو فلسطین میں دفنانے کے لیے خصوصی اجازت دی گئی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ توفیق طیراوی نے اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ یووال ڈیسکین سے ملاقات کی حالانکہ اس وقت طیراوی کسی بھی طرح سکیورٹی معاملات کے حصہ دار نہیں تھے۔
اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدیدار شبانہ نے اس موقع پر انٹیلی جنس آفیسر بریگیڈئیر موسی عرفات کے قتل کو بھی یاسر عرفات کے قتل سے جوڑا اور کہا کہ موسی عرفات ابو عمار کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، وہ ایک مصنف تھے اور یاسر عرفات کے ہی گھر میں رہتے تھے ان کی جانب سے ابو عمار کو کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ موسی عرفات کے گھر میں ہونے والی جھڑپ کے دوران گھر کے اطراف پھیلے سکیورٹی اہلکاروں کو عدم مداخلت کا حکم دینے والا کون تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ موسی عرفات اور انکے گارڈز کے درمیان آدھے گھنٹے تک جھڑپ ہوتی رہی جس میں آر پی جی سمیت بھاری اسلحہ استعمال ہوا، اس دوران اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے ان کے گھر کا احاطہ تو کیے رکھا تاہم اس جھڑپ میں مداخلت کیوں نہیں کی۔ شبانہ کا اگلا سوال یہ تھا کہ موسی عرفات کے قتل کی تحقیقات رکوانے والی شخصیت کون ہے؟
فھمی شبانہ نے کہا کہ توفیق طیراوی اس بات کی تصریح کر چکے ہیں کہ ابو عمار کے قتل کی تحقیقات کے لیے خفیہ ایجنسی کی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم انہوں نے اپنے ذاتی اختیار کی بنا پر دیا تھا، اگر یہ کمیٹی طیراوی کی ذاتی کاوش تھی تو اتھارٹی کے ایوان صدر نے مرحوم صدر کے قتل کی تفتیش کرنے کے لیے آٹھ سال تک کوئی کمیٹی قائم کرنا کیوں ضروری خیال نہیں تا آنکہ سیٹلائٹ چینل الجزیرہ کی رپورٹ منظر عام پر آگئی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
