فلسطینی مجلس قانون ساز کے سیکنڈ ڈپٹی اسپیکراور سابق فلسطینی صدر یاسرعرفات کے قتل کی انکوائری کے لیے قائم کمیٹی کے رکن
حسن خریشہ نے الزام عائد کیا ہے کہ رام اللہ اتھارٹی کے اعلیٰ عہدیدار یاسر عرفات کو زہر دے کر مارنے میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کو زہر دے کر مارنے کے لیے "الوبونیم” نامی زہریلا مادہ اس وقت رام اللہ میں یاسرعرات کے ہیڈ کواٹر تک پہنچایا گیا تھا جب وہ اسرائیل کی جانب سے اپنے ہیڈ کواٹر میں محصور تھے۔
انکوائری کمیٹی کے رکن حسن خریشہ نے سعودی اخبار”الشرق” کو انٹرویو میں کہا کہ سابق صدر یاسر عرفات کے قتل کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی قائم کی گئی تھی وہ اس کے ممبر تھے۔ لیکن عرب ممالک اور رام اللہ اتھارٹی کے کچھ سرکردہ قائدین نے کمیٹی کو آزادانہ کام کرنے سے روک دیا۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے تحقیقاتی کمیٹی کوئی موثر کارروائی نہیں کرسکی ہے اور نہ ہی سابق صدر کی موت کے اسباب کا تعین کیا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں خریشہ نے کہا کہ ان کی انکوائری کمیٹی میں ایک ڈاکٹر بھی شامل تھے جنہوں نے انکوائری کے لیے مصر سے آنے والے دو ڈاکٹروں کو یاسر عرفات کی میت کے قریب جانے سے روک دیا تھا۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ یاسرعرفات کے قتل میں فلسطینی اتھارٹی کی اعلیٰ قیادت براہ راست ملوث ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں الجزیرہ ٹی وی پر نشریاسرعرفات کی زہر سے ہونے والی موت کے بارے میں رپورٹ کے منظرعام پرآنے کے بعد رام اللہ اتھارٹی کے موقف کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس کی جماعت کے کئی سرکردہ رہ نما یاسرعرفات کو منظر سے ہٹانا چاہتے تھے، یہی وجہ ہے آج بھی اگر ان کی موت کے زہرسے واقع ہونے کے بارے میں کسی قسم کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تو جماعت کی قیادت اس کی راہ میں مزاحم ہو رہی ہے۔
احمد خریشہ نے یاسرعرفات کے قتل کے بارے میں قائم کردہ کمیٹی کو دوبارہ بحال کرنے اور موثر انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قوم کو اپنے لیڈر کے قتل میں ملوث عناصر تک رسائی کے لیے فتح کی مرکزی قیادت پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
