مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کے ڈائریکٹر الشیخ عمر الکسوانی نے بتایا کہ صہیونی فوج نے فلسطینیوں کو نماز جمعہ کی ادائی کی خاطر قبلہ اول میں آنے سے روکنے کے لیے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں مگر فلسطینی شہری ان تمام رکاوٹوں کو توڑ کر قبلہ اول میں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
الشیخ کسوانی نے بتایا کہ صہہونی حکومت کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی ختم کیے جانے کے اعلان کے باوجود پچھلے ایک ہفتے سے شہریوں کو آزادانہ طور پر قبلہ اول کی طرف جانے سے سختی سے روکا جاتا رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ کل جمعہ کے روز دیکھنے کو ملا جب بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے شہروں میں بڑی تعداد میں صہیونی فوجیوں اور پولیس نے فلسطینیوں کو مسجد میں آنے سے روکنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی شہر جمعہ کو نماز فجر کے بعد سے ہی قبلہ اول میں آنا شروع ہوگئے تھے۔ نماز جمعہ کے وقت کم سے کم چالیس ہزار افراد قبلہ اول میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ میں نماز جعمہ ادا کرنے والوں میں بیت المقدس، شمالی فلسطین کے شہروں، مغربی کنارے حتیٰ کہ غزہ کی پٹی کے 200 شہریوں نے بھی شرکت کی۔
