• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

ہالینڈ یہودی انتہا پسندوں کے مظالم کی مذمتی رپورٹ رکوانے میں ملوث

ہفتہ 21-04-2012
in فلسطین
0
plf hooland
0
SHARES
0
VIEWS

plf hooland

برطانیہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک عالمی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ ہالینڈ فلسطین میں یہودی انتہا پسندوں کے مظالم اور فلسطینیوں پرتشدد کےخلاف عالمی قرارداد ویٹو کرنے میں ملوث ہے۔

 

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہالینڈ کے سابق وزیراعظم ڈرائیس فان ایگٹ نے کی سربراہی میں کام کرنے والے نام نہاد انسانی حقوق کلب نے یورپی یونین کی جانب سے فلسطین میں یہودی انتہا پسندوں کے مظالم کےحوالے سے ایک رپورٹ تیار کی تھی۔ اس رپورٹ کو گذشتہ برس اپریل میں یورپی یونین میں منظوری کے لیے پیش کیا جانا تھا تاہم ہالینڈ کے سابق وزیراعظم کے زیرنگرانی کام کرنے والے کلب نےاصرار کرکے اس رپورٹ کے اجراء کو روک دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ہالینڈ کی جانب سے انسانی حقوق کی رپورٹ کے اجراء کو روکے جانے کی وجہ ہالینڈ کے عوام کا دباؤ بتایا جاتا ہے تاہم انسانی حقوق کے ادارے ہالینڈ کے اس جواز کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے جمعہ کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین کمیشن کی جانب سے فلسطینی عرب علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پرحملوں کی تفصیلات جاری کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی سرگرمیوں سے سب سے زیادہ متاثرمغربی کنارے اور بیت المقدس کے شہری ہیں، جہاں یہودیوں کی طرف سے فلسطینیوں کی جان ومال غیرمحفوظ ہوگئی ہیں۔
رپورٹ میں گذشتہ دو سال سے انتہا پسند یہودیوں کےہاتھوں فلسطینیوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات بھی بیان کی گئی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ یہودی آباد کاروں نے ستمبر2010ء کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے زیتون کے باغات پرحملے کرکے کم سے کم 10 ہزارپھل دار پودوں کو تلف کردیا تھا۔ اس کے علاوہ اس عرصے میں یہودی آباد کاروں کے حملوں میں کم سے کم 71 فلسطینی زخمی بھی ہوئے تھے۔
رپورٹ جس کی اشاعت اور منظوری سے ہالینڈ نے روک دیا میں بتایا گیا تھا انتہا پسند یہودیوں کے حملوں اور تشدد کے باعث فلسطینیوں کے بچے زیادہ غیرمحفوظ اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ پارکوں اور سڑکوں پرکھیلتے کم عمربچوں کو یہودی دہشت گردوں کے حملوں کا سامنا ہے اور انہی خطرات کے پیش نظر فلسطینی اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے سے گریز کررہے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں سلوان اور بستان کالونیاں جبکہ مغربی کنارے میں الخلیل، نابلس اور بیت لحم ایسے شہرہیں جہاں فلسطینی بچوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات دیگرعلاقوں کی نسبت زیادہ وقوع پذیر ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کم سے کم پانچ لاکھ یہودی آباد کاروں کو بسایا گیا ہے ان میں ایک لاکھ نوے ہزار یہودی مشرقی بیت المقدس کی بارہ کالونیوں جبکہ 310000 یہودی آباد کار مغربی کنارے کی ایک سو چوبیس کالونیوں میں بیرون ملک سے لاکرآباد کیے گئے ہیں۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.