فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے دوحہ میں قطری ولی عہد شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات کی۔ ھنیہ نے قطری امیر حمد بن خلیفہ الثانی سے ملاقات میں ان سے کچھ اہم امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے قطر گئے تھے۔
فلسطینی حکومت کے ترجمان طاہر النونو نے تصدیق کی ہے کہ ھنیہ نے قطری ولی عہد کے ساتھ مفاہمت، یروشلم، اسیران اور غزہ کی تعمیر نو کے موضوعات پر بات چیت کی ہے۔
طاہر نونو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطری ولی عہد نے تعمیر نو کے لئے دی گئی قطری امداد کے علاوہ غزہ میں ایوان انصاف قائم کرنے کے لئے 11 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا۔
ھنیہ نے قاہرہ میں قومی مفاہمت کے لئے ایک منی سمٹ منعقد کرنے کے قطری فیصلے کا خیر مقدم کیا اور مسئلہ فلسطین اور فلسطینی عوام کی جانب قطر کے رویے کو سراہا۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی نے قاہرہ میں ایک منی سمٹ منعقد کرنے کی تجویز دی تھی کہ جس میں حماس اور الفتح تنظیم کی شرکت ہوگی اور اس میں مفاہمت، عبوری حکومت کے قیام اور انتخابات کی تاریخ پر بات چیت کی جائے گی۔
ھنیہ نے اس ملاقات کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید اسیران خاص طور پر بھوک ہڑتالی اسیر سامر العیساوی کی حالت پر بات چیت کیا اور زور دیا کہ یہ مشکلات اور اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے قطری ولی عہد کو غزہ آںے اور قطری منصوبوں کے افتتاح کرنے کی دعوت دی۔ نونو کے مطابق قطری ولی عہد نے بتایا کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کو مسلم امہ کا مرکزی مسئلہ سمجھتے ہوئے فلسطینی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
