علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما ہیں، زمانہ طالب علمی میں پاکستان میں فروغ عشق مصطفٰی (ص) کے لئے سرگرم عمل طلباء تنظیم انجمن طلباء اسلام میں شمولیت اختیار کی
اور ناظم کراچی رہے، اسی تنظیم میں صوبائی و مرکزی ذمہ داریوں پر بھی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ پاکستان میں مسئلہ فلسطین کے لئے جدوجہد کرنے والے بنیادی ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں، آپ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی مرکزی سرپرست کونسل کے بھی رکن ہیں۔ اسلام ٹائمز نے گلوبل مارچ ٹو یروشلم سمیت ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر ایک تفصیلی انٹرویو کیا ہے جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ
اسلام ٹائمز: گلوبل مارچ کی کیا تیاریاں ہیں اور پاکستان سے کتنے افراد کی شرکت متوقع ہیں۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: راوں سال 30 مارچ کو ہونے والا گلوبل مارچ ٹو یروشلم دنیا میں اس سال کا سب سے بڑا اور عظیم ایونٹ ہو گا۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں گلوبل مارچ ٹو یروشلم کی بھرپور تیاریاں جاری ہیں اور امید ہے کہ اچھی تعداد اس کاروان میں شریک ہو گی۔ ہم نے اپنے تمام مراکز میں تیاریاں شروع کر دی ہیں اور ویب سائٹ پر بھی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ اس وقت تمام احباب سے رابطے میں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان سے ایک بڑی تعداد لوگوں کی اس مارچ میں شریک ہو، جو مظلوم فلسطینیوں سے ہمدردی کا اظہار کرے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان سے 14 مارچ کو جو قافلہ روانہ ہو گا، اس میں ایک قابل ذکر تعداد شریک ہو گی۔
اسلام ٹائمز: بھارت سے جانے والا قافلہ بھی اس میں شامل ہو گا یا اس کا کوئی اور روٹ ہے۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: اس حوالے سے ہم انڈیا میں فلسطین کاز کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے رابطے میں ہیں، 11 مارچ کو وہ پاکستان آئیں گے، پی ایل ایف کی جانب سے اُن کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ یہ کاروان لاہور، ملتان اور حیدرآباد سے ہوتے ہوئے کراچی اور پھر کراچی سے کوئٹہ کی طرف جائے گا اور اسی طرح کوئٹہ سے ہوتے ہوئے ایران پہنچیں گے، جہاں سے آگے کی طرف روانگی ہو گی۔
اسلام ٹائمز: پہلے بھی اسرائیل کی جانب سے فریڈم فلوٹیلا کو روکا گیا تھا، کیا امید کرتے ہیں کہ اس بار کامیاب ہو پائیں گے۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: مسئلہ فلسطین کی حمایت کیلئے جانے والا گلوبل مارچ ٹو یروشلم کسی ایک خطہ کا نہیں بلکہ دنیا بھر سے حریت پسند اس کاروان میں شریک ہونگے، اس میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شریک ہوں گے جن میں عیسائی، ہندو اور بعض سیکولر افراد بھی شریک ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا پر اخلاقی دباؤ ہو گا اور کوئی ملک بھی ہمارا راستہ روک نہیں پائے گا، یہ ایک خالص انسانی مسئلہ ہے۔
اسلام ٹائمز: الفتح اور حماس کے موجودہ رابطوں کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: یہ ان کا داخلی معاملہ ہے، ہمارا مارچ عالمی سطح پر آرگنائز کیا گیا ہے اور تمام طاقتیں اس کو تسلیم کرتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ حماس کی بہترین حکمت عملی ہے کہ اس نے الفتح سے تعلقات بہتر بنانا شروع کر دیئے ہیں۔ ہمارے خیال میں اگر الفتح اور حماس مشترک چیزوں پر اکھٹے ہو جائیں تو آزادی فلسطین کیلئے نیک شگون ہو گا۔ کیونکہ ان دونوں کی تفریق سے بلآخر فائدہ دشمن کو ہی پہنچ رہا ہے۔
اسلام ٹائمز: شام وہ واحد ملک ہے جہاں حماس کا ہیڈکوارٹر ہے اور فلسطین سے متعلق تمام سرگرمیاں وہاں پر ہوتی ہیں، عالمی سطح پر شام کیلئے مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اس کے پیچھے کیا سازش نظر آتی ہے۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: شامی حکومت کی فلسطین کے لیے بہت قربانیاں ہیں اور حماس کے ساتھ بھی انہوں نے بہت تعاون کیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں تبدیلی آ رہی ہے۔ جیسا کہ مصر میں تبدیلی آئی، تیونس، الجزائر اور بحرین وغیرہ میں تبدیلی کی ایک لہر آئی، تو شاید یہ اسی کا اثر ہے، لیکن بہر صورت ہم اس سلسلے میں اپنا نکتہ نظر نہیں دینا چاہتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں حماس کی ہمدردی عوام میں موجود ہے گو کہ موجودہ حکمرانوں نے اچھا تعاون کیا۔ ایک تبدیلی اگر آئے بھی تو حماس کے اوپر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
اسلام ٹائمز: اوباما اقتدار میں آیا تو اس نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں درینہ مسائل حل کریں گے، کیا وجہ نظر آتی کہ اوباما انتظامیہ نے اپنی پوری ٹرم میں فلسطین کے مسئلہ پر کوئی بات تک نہیں کی، کہیں یہ الکشن کمپین کا حصہ تو نہیں تھا۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: امریکہ میں کوئی بھی صدر ہو، وہ اپنی پالیسیاں نافذ نہیں کر سکتا، امریکہ ایک ایسا ملک نہیں ہے جہاں آنے والا حاکم یا پارٹی اپنی پالیسیاں نافذ کر سکے، امریکہ کا اپنا ایک تھنک ٹینک ہے اور ان کے اپنے دور رس نتائج والے منصوبے ہیں اور وہ اپنے منصوبے کے تحت ہی اپنی پالیسی بناتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ صدر اوباما نے آ کر یہ اعلان کیا اور ہو سکتا ہے کہ اس کی حکمت عملی کا حصہ ہو، لیکن یہودی لابی کے آگے اس نے بھی گھٹنے ٹیک دیئے، ہمیں کسی بھی طاقت سے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ ان کے ذریعے مسئلہ فلسطین حل ہو گا، اس میں چاہے امریکہ ہو، فرانس ہو، برطانیہ ہو یا کوئی اور دیگر طاقتیں ہوں، ان سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ اس وقت حل ہو گا جب فلسطین کے اندر کی طاقتیں اور عالم اسلام متحد ہو جائے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پوری امہ اس کاز کیلئے متحد ہو جائے۔
اسلام ٹائمز: پاکستان سے حکومتی سطح پر آپ کیا توقعات رکھتے ہیں اور کیا سمجھتے ہیں کیا اقدامات اٹھانے چاہئیں۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: پاکستان فلسطین کاز کی بین الاقومی سطح پر حمایت کرتا ہے، اس حوالے سے حکومتی سطح پر یہ ہونا چاہیے کہ اس ایشو کو ہر عالمی فورم پر رکھنا چاہیے، مظلوم فلسطینیوں کی اخلاقی و سفارتی سطح پر تعاون کرنا ہماری ذمہ داری ہے، کیوں ہم سمجھتے ہیں پاکستان کے عوام کے دل فلسطینی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
اسلام ٹائمز: جنرل مشرف اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اس بات کا وہ کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں۔ کیا کہیں پاکستان میں کوئی اس بارے میں نرم گوشہ رکھتا ہے کیا۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: یہودیوں کی گڈبک میں پرویز مشرف کا نام ابھی تک شامل ہے، آپ بتائیں کہ جس شخص کا نام یہودیوں کی گڈبک میں شامل ہو اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، کیونکہ مشرف یہ باور کر چکے تھے کہ پاکستان میں اقتدار کیلئے امریکہ کا راضی ہونا ضروری ہے اور امریکہ کو اس وقت تک راضی نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل کو تسلیم نہ کیا جائے یا امریکہ کو یہ یقین نہ دلایا جائے کہ اُن کے ایجنڈے پر کام کریں گے۔ اس لئے مشرف اس طرح کے بیان دیکر امریکیوں کو باور کرا رہے ہیں کہ وہ واحد آدمی ہے جو اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے خود ہی اپنا بھرم کھول دیا، ورنہ شائد عوام کو سمجھنے میں مشکل پیش آتی۔ اب مشرف پاکستان آئے اور اپنی مقبولیت کا گراف دیکھ لے۔
اسلام ٹائمز: دفاع کونسل پاکستان میں بعض کالعدم تنظیمیں بھی شامل ہیں، بعض لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ دفاع پاکستان پاک افواج کی ذمہ داری ہے نہ کہ تنظیموں کی، کیا کہیں گے۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج پاکستان کے دفاع کی پوری ذمہ دار ہے اور ان کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ ہر موقع پر اور ہر سطح پر پاکستان کا دفاع کریں۔ اگر کسی موقع پر پاکستانی فوج یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کو اپنی دفاعی لائن مضبوط کرنے کے لیے عوام کے سہارے کی ضرورت ہے تو فوج خود کال کرے گی، رینجرز اور بہت سی اس قسم کی تنظیمیں ہیں اور نیم سرکاری ادارے ہیں جو ضرور تعاون کریں گے۔ میں نہیں سمجھتا کہ فوج کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی اور ایسے ادارے کی ضرورت ہے کہ جو جہادیوں کو تیار کرے اور جہادی کلچر پیدا کریں۔
اسلام ٹائمز: تو پھر دفاع پاکستان کونسل کے مقاصد کیا ہیں، وہ تو کہتے ہیں کہ ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے پاکستان کا دفاع، ہمارا کوئی سیاسی رول نہیں ہو گا۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: شاید حکومت ان لوگوں کو جو کسی موقع پر انتہاء کی ایک طرف چلے گئے تھے، دوبارہ شاید مراعات دے کر انہیں کسی کام میں لانا چاہتی ہے، جس طرح کے حالات نظر آ رہے ہیں کہ تمام تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئیں ہیں۔ حکومت کی بعض کمزوریاں ایسی ہیں کہ جس میں حکومت شاید کوئی فیصلہ نہیں کر پاتی۔ اگر حکومت نہ چاہتی تو شاید اسلام آباد میں ایسی تنظیمیں پروگرام نہ کر پاتیں۔ لاہور، کراچی اور ملتان کے جلسے ہمیں بتا رہے ہیں کہ حکومت کے پاس ان کیلئے نرم گوشہ موجود ہے۔
اسلام ٹائمز: بلوچستان سے متعلق کانگرس نے ایک قرارداد پاس کی، اس بارے میں آپ کیا کہیں گے۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: امریکہ پاکستان کے تمام تر داخلی معاملات میں برابر کا شریک ہے اور یہ ہماری کمزوری ہے۔ اس سے پہلے صوبہ خیبرپختونخوا کے اندر زیادہ مزاحمت کرتا رہا اور اب بلوچستان کی بات کر رہا ہے۔ امریکہ کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اتنے آرام سے پاکستان سے بلوچستان کو الگ کر لے گا۔ جبکہ بلوچستان کے اندر بہت ساری پیچیدگیاں ہیں۔ بعض دیگر ممالک کے حوالے سے بھی شبہ ہے کہ وہ بھی اس میں ملوث ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے عوام کی آواز کو سنیں اور فوری طور پر اصلاحات کریں، تاکہ لوگ ان سے باقاعدہ راضی اور خوش رہیں اور تحریک فوری طور پر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے اور ختم ہو جائے ورنہ بہت سارا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔
اسلام ٹائمز: سہ فریقی کانفرنس کے بعد امریکہ کا رویہ ایک دم تبدیل ہو گیا ہے، اس کی کیا وجہ نظر آتی ہے۔؟
قاضی احمد نورانی صدیقی: امریکہ اور اس کے حواری یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان خودکفیل نہ ہو اور نہ ہی ترقی کی منازل طے کرے، لیکن حکومت پاکستان کو خود بھی یہ سوچنا چاہیے کہ افغانستان، ایران اور بنگلہ دیش سے جتنی قربتیں بڑھیں گی وہ ہمارے مفاد میں ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہمیں افغانستان حکومت پر اتنا اعتماد نہیں ہے لیکن اپنے آپ کو اتنا تو سوچنا چاہیے کہ ہندوستان جس طرح کھلے عام اپنی تجارت کر رہا ہے، اسی طرح پاکستان بھی کم از کم اس سے نصف مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ دور بیٹھے کسی ملک کے دباؤ میں آ کر اپنے مفاد کو قربان کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ ہمیں ہر صورت امریکہ سے جان چھڑانہ ہو گی۔

