سنہ 1948ء میں اسرائیلی تسلط کے نتیجے میں بیرون ممالک آباد لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے قائم ایک تنظیم کی حالیہ رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ لبنان میں قیام پذیر فلسطینی مہاجرین کے بچوں کے تعلیمی مراکز چھوڑنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران گیارہ ہزار فلسطینی طلبہ نامساعد حالات کے باعث اسکولوں میں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
تنظیم نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کو بتایا سنہ 2001تا 2011 کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی کے اسکولوں سے فلسطینی بچوں کے بھاگنے کی شرح اٹھارہ فیصد رہی۔ ان دس سالوں کے دوران گیارہ ہزار 663 طلبہ اور طالبات ان اسکولوں سے بھاگ گئے۔
تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فلسطینی مہاجرین کی ضروریات اور ایجنسی کے اسکولوں میں دی جانے والی سہولیات کے مابین موجود بڑی خلیج ہی بچوں کے تعلیم چھوڑنے کی بڑی وجہ ہے۔ صحت، ترقی، تعلیم اور تربیت کے حوالے سےفلسطینی مہاجر طلبہ کو دی جانے والی سہولیات ان کی ضرورت سے کہیں کم ہیں۔

