فلسطینی میڈیا نے یورپی سفارتی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکا، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ پر مشتمل گروپ چار نے اردن کی میزبانی میں جاری فلسطین ۔ اسرائیل امن مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے کوششیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے
کہ گروپ چار فلسطینی اتھارٹی کو حوصلہ افزاء اقدامات کا ایک پیکیج پیش کرنے کی بھی تیاری کر رہی ہے اوراس کے بدلے میں رام اللہ اتھارٹی کو دو ماہ کے لیے مزید مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے۔
ذرائع کےمطابق یورپی یونین کی خارجہ امورکی انچارج کیتھرین آشٹون نے مذاکرات کے عمل میں توسیع کے لیے فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت بھی کی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ہفتہ پیشتر دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران اسرائیلی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور ان میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کےساتھ مذاکرات کے دوران مسز آشٹون کو بتایا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ عمان میں راست مذاکرات کی بحالی کے لیے ابتدائی نوعیت کے پانچ مراحل بے نتیجہ رہے ہیں اور ان مذاکرات میں فلسطینی انتظامیہ کو مایوسی کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کے ساتھ بات چیت کا عمل آگے بڑھانے پر راضی کرنے کے لیے ایک پرکشش پیکیج کی تیاری میں مصروف ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ہاں زیرغور پیکیج میں کئی اہم امور شامل ہیں۔ ان میں سنہ 1994ء سے قبل کے اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست تمام اسیران کی رہائی، مغربی کنارے کے”زونجی” میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی روک تھام اور فلسطینی اتھارٹی کو ان علاقوں میں مزید اختیارات کی فراہمی جیسے نکات شامل ہیں۔

